Jan 26, 2018 07:24 pm
views : 568
Location : Ministry of Foreign Affairs
Islamabad- Weekly Foreign Office Briefing
اسلام آباد، امریکی افواج کو وزیرستان اور کرم ایجنسی میں کارروائی کی اجازت دینے کا کوئی معاہدہ نہیں ہے،ترجمان دفتر خارجہ
ترجمان دفتر خارجہ نے کرم ایجنسی میں ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے
کہ امریکی افواج کو وزیرستان اور کرم ایجنسی میں کارروائی کی اجازت دینے کا
کوئی معاہدہ نہیں ہے، گزشتہ روز کرم ایجنسی میں ڈرون حملہ کیا گیا جس میں
حقانی کمانڈر سمیت 2 افراد کے مارے جانے کی خبر سامنے آئی۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے
کہا کہ پاکستان کرم ایجنسی میں ڈرون حملے کی مذمت کرتا ہے، امریکی افواج
کو وزیرستان،کرم ایجنسی میں کارروائی کی اجازت دینے کا کوئی معاہدہ نہیں،
ایسی کارروائیاں پاک امریکا رابطوں پرمنفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ امریکی ڈرون حملے سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم
ہیں، ڈرون حملے میں کرم ایجنسی میں افغان مہاجر کیمپ کو نشانہ بنایا گیا،
پاکستان اپنی حفاظت کے لیے سلامتی کی ضروریات سے غافل نہیں ہے، امریکا دہشت
گردوں کے خلاف معلومات فراہم کرے، ہم خود کارروائی کریں گے۔
ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں بھارت کی ہتھیاروں کی دوڑ
اوردفاعی تیاریوں سے غافل نہیں ہے، بھارت کی اسلحے کی بے تحاشا خریداری ان
کی دفاعی ضروریات سے کہیں زیادہ ہے، پاکستان اپنی دفاعی اور سلامتی کی
ضروریات کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن اقدام کرے گا، ، بھارت کا روایتی اور
غیر روایتی ہتھیاروں کا حصول اور میزائل تجربات خطے میں امن و استحکام پر
منفی اثرات مرتب کریں گے،بھارت کی جانب سے اسلحے میں بے تحاشا اضافہ اس کی
دفاعی ضروریات سے کہیں زیادہ ہے ، پاکستان خطے میں بھارت کی اسلحے کی دوڑ
سے غافل نہیں۔بھارت کی خطے میں امن و استحکام کی خواہش مبالغہ آرائی کے سوا
کچھ نہیں،بھارت کی اعلان کردہ پالیسی اور خطے میں اس کی سرگرمیوں میں واضح
فرق ہے۔
ترجمان نے مزید کہاکہ پاکستان اپنی دفاعی اور سلامتی ضروریات کو یقینی
بنانے کیلئے ہر ممکن قدم اٹھائے گا،انہوں نے واضح کیا کہ تصادم نہیں تعاون
ہی خطے میں امن و استحکام کا واحد راستہ ہے، ترجمان نے کہا کہ پاکستان پر
امن ہمسائیگی پر یقین رکھتا ہے جو خطے کی ترقی اور استحکام کیلئے انتہائی
ضروری ہے۔