اسلام آباد،میرے خلاف سازشوں کا جواب عوام دے رہی ہے،نوازشریف
شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت 15 فروری تک ملتوی کردی گئی۔
سابق وزیر اعظم نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث احتساب عدالت میں پیش نہ ہوئے
جس کے بعد احتساب عدالت نے شریف خاندان کے خلاف ریفرنسوں کی سماعت 15
فروری تک ملتوی کردی۔
اس سے قبل سماعت کے لیے سابق وزیراعظم نواز شریف، بیٹی مریم نواز اور داماد
کیپٹن (ر) صفدر پہنچے۔ سماعت کے دوران نوازشریف نے دو ہفتے کے لئے حاضری
سے استثنیٰ مانگا۔ نوازشریف نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ اہلیہ
کی عیادت کیلئے برطانیہ جانا ہے جس کے باعث 19 فروری سے دو ہفتے کے لئے دیا
جائے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں ضمنی ریفرنس منظورکرلیا تھا۔
اس موقع پر سابق وزیراعظم نواز شر یف نے احتساب عدالت کے باہر میڈ یا
کےنمائند ؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف مقدمات اور سازشوں کا
جواب عوام دے رہے ہیں۔
سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ میرا مقدمہ پاکستان کے عوام لڑرہے
ہیں، احتساب کے نام پر ہم سے انتقام لیا جارہا ہے لیکن عوام کا ردعمل عیاں
ہے جو ہمارے خلاف جھوٹے مقدمات و سازشوں کا جواب دے رہے ہیں اور ووٹ کے
تقدس کی مثالیں بھی قائم کر رہے ہیں۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خدمت کرنے والوں سے انتقام لیا جا رہا
ہے اور ان کے خلاف سارا زور لگایا جارہا ہے، جنہوں نے نیب سے ریفرنسز
بنوائے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ نواز شریف کو کسی نہ کسی طرح سزا ہوجائے، مجھے
سزا دینے کے لیے ضمنی ریفرنس تیار کئے جارہے ہیں، حالانکہ موجودہ ریفرنس
میں جان ہوتی یا کوئی ثبوت اور سچائی ہوتی تو ضمنی ریفرنس کی ضرورت ہی نہ
ہوتی، ان ریفرنسز میں کچھ نہیں۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں معلوم کس بات کا انتقام لیا جارہا
ہے، لیکن کل لودھراں کا الیکشن جھوٹے مقدمات کا جواب ہے، ہم سے انتقام لینے
والوں سے عوام نے کل لودھراں میں انتقام لیا، کسی نئے میثاق جمہوریت کی
ضرورت نہیں، پہلے والے چارٹر پر ہی عمل ہوجائے تو سب ٹھیک ہوجائے گا، جنہوں
نے آئین توڑا اور ججز کو گرفتار کیا ان کو کوئی نہیں پوچھتا، جس پر غداری
کے کیس بنے اسے گرفتار تک نہیں کیا گیا اور وہ بیرون ملک چلا گیا۔