Feb 20, 2018 04:54 pm
views : 468
Location : CM Secretariat
Karachi- CM Sindh Syed Murad Ali Shah chairs Cabinet Meeting
کراچی ، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اجلاس
کراچی میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اجلاس ہوا۔
ترجمان وزیراعلیٰ ہاؤس کے مطابق سند ھ کابینہ کا ا جلاس نیو سندھ سیکریٹریٹ
میں منعقد ہو ا۔کابینہ کے اجلاس کے آغازپر قرآن پاک کی تلاوت کی گئی اور
بعد میں میر ہزار خان بجارانی اور عاصمہ جہانگیر کے لیے فاتحہ خوانی کی
گئی۔
سندھ کابینہ نے پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن ، پاکستان اسٹیل مل اور لاکھڑا کول پاور پلانٹ کی نجکاری کی سختی کے ساتھ مخالفت کی ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ پاکستان اسٹیل مل کے کارکن اپنی تنخواہوں کی عدم
ادائیگی کے باعث فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ وفاقی حکومت نے دانستہ طورپر اسٹیل
مل کے مفافع بخش ادارے کو نقصان میں تبدیل کردیا اور یہی حال پی آئی اے کا
کیاگیا ہے۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر پاکستان اسٹیل مل
کی نجکاری کردی جاتی ہے تو پاکستان اسٹیل مل کی زمین خود بخود صوبائی حکومت
کو منتقل ہوجائے گی۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ پی آئی اے ، پاکستان
اسٹیل مل اور لاکھڑاکول فائر پاور پلانٹ کے ورکرز کے مفادات کا تحفظ کرے۔
سندھ حکومت ان کی نجکاری کے خلاف احتجاج کرے گی۔
کابینہ نے متفقہ طورپر وزیر اعلیٰ سندھ کو اختیار دیا کہ وہ وفاقی حکومت کو
کابینہ کا واضح پیغام دے دیں۔ کابینہ کے ایجنڈے میں سندھ پولیس(تبادلے،
پوسٹنگ اور مدت) قواعد 2017 ء کے ڈرافٹ ،سندھ کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں سے
متعلق ڈرافٹ قانون، ضیاء الدین یونیورسٹی کے چارٹر میں ترمیم،سندھ کول
اتھارٹی قواعد 2017ء،سندھ نوریاآباد گیس فائر پاور پروجیکٹ،سندھ مائننگ
کنسیشن قواعد 2002ء کی نظر ثانی شدہ ترمیم ،مائنز کمیٹی کی ساخت وضع کرنے
کے لیے اختیارات کی تفویض ، سندھ رویت ہلال ایکٹ 2017ء سے متعلق قانون سازی
، سندھ قرآن (پرنٹنگ،ریکارڈنگ اورشہید اور مقدس اوراق ورک کے ڈسپوزل)ایکٹ
2018،لاء آفیسر(کنڈیشنز آف سروس) قواعد میں ترمیم،سندھ ٹوررزم ڈیولپمنٹ
کارپوریشن امپلائز(سروسز) بائے لاز 2017ء ؛سندھ امپلائز سوشل سیکوریٹی
(ترمیمی)بل 2017ء، ضلع کے حساب سے ویٹنری سروس پروگرام کے تحت کنٹریکٹ پر
ویٹنری ڈاکٹرز کی ریگولرائزیشن۔
اجلاس میں پولیس قوانین پر تفصیلی غور کیاگیا اور بالا آخر یہ طے پایا کہ
جیسا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے لہٰذا عدالت کے سندھ حکومت کی اپیل
پر فیصلے تک اس معاملے کو مؤخر کردیاجائے۔
کابینہ میں سندھ کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے متعلق ڈرافٹ قانون پر غور
کیاگیا اور اس کی منظوری دی گئی۔ نئے ڈرافٹ قانون کے تحت وائس چانسلر، ڈی
این اور پرو وائس چانسلر کی تعیناتی وزیر اعلیٰ سندھ کریں گے اور گورنر
بطور چانسلر اعزازی ڈگریاں دیں گے۔ رجسٹرار اور کنٹرولر امتحانات کی
تعیناتی سلیکشن کمیٹی کی سفارشات پر سینڈیکیٹ کرے گی۔
کابینہ نے ڈرافٹ قانون کی منظوری دی اور فیصلہ کیا کہ اسے ہائیر ایجوکیشن کے لیے اسے اسٹینگ کمیٹی کو بھیجا جائے۔