لاہور،غربت سے لڑتی ،اپنے شوہروں کے شابشانہ کام کرتی لاہور کی با ہمت خواتین
آج دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے جبکہ لاہور کی باہمت
خواتین اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لئے اپنے شوہروں کے شانہ بشانہ غربت سے
لڑ رہی ہیں ،خواتین شکوہ کرتی ہیں کہ ملک میں غربت اور مہنگائی اس قدر بڑھ
چکی ہے کہ ایک مرد کی کمائی میں گھر کے اخراجا پورے نہیں ہوتے تبھی وہ
بھیاپنے محلے یا گھروں میں چار پیسے کمانے کی غرض سے کام کر رہی ہیں۔
ملک میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے مختلف
شعبوں میں کام کرتی نظر آتی ہیں جبکہ حکومتی کی جانب سے کئے جانے والے
اقدامات بھی خواتین کی بہبود کے لئے ناکافی دکھائی دیتے ہیں۔
پینتالیس سالہ شگفتہ بانو اپنے گھروں ہر خواتین کی چپلیں بناتی ہیں جنہیں انکا شوہر بازار میں فروخت کرتا ہے ۔
ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سےگفتگو کرتے ہوئے شگفتہ بانو کا کہنا تھا کہ
باہر کام کرنے میں بہت مشکلات کا سامنا ہوتا ہے جبکہ گھر میں کام کرنے سے
بچوں کو بھی دیکھ بھال کر لیتی ہوں
شگفتہ کے ساتھ کام کرنے والی نازیہ بی بی کا کہنا تھاکہ میرے شوہر کی کمائی
میں گھر کے اخراجا ت پورے نہیں ہو رہے تھے جس پر میں نے بھی کام کرنے کا
ارادہ کیا۔
محمود ہ بانو جو کرائے کی ایک کمرے میں جنرل اسٹور چلارہی ہیں اور اسی کمرے میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہتی بھی ہیں ۔
محمود ہ بانو کا کہنا تھا کہ ہمارا اپنا گھر نہیں ہے اور اسی کرائے کے ایک
کمرے میں میں یہ اسٹور چلا رہی ہوں اور ہم اسی کمرے میں رہتے ہیں ۔
محمودہ کی 18 سالہ لڑکی انیلہ جو سلائی کرکے اپنے والدین کا ہاتھ بٹاتی ہے ۔
انیلہ کا کہنا تھا کہ میں پڑھنا تو چاہتی ہوں لیکن حالات اجازت نہیں دیتے اسی لئے می سلائی کرکے اپنے والدین کی مدد کرتی ہوں۔