پشاور، میں اپنے ملک کے حکمرانوں سے درخواست کرتا ہوں کہ میرا ساتھ دیں،مشال خان کے والد اقبال لالا
مردان کی ولی خان یونیورسٹی میں مبینہ توہین مذہب کے الزام میں قتل کئے
جانے والے طالب علم مشال خان کے والد اقبال خان نے چیف جسٹس آف پاکستان سے
مشال قتل کیس کا دوبارہ ازخود نوٹس لینے کی اپیل کر دی۔
مشال خان کے والد اقبال لالا نے کہا کہ گزشتہ دنوں ہائی کورٹ بینچ نے 25
ملزموں کو رہا کردیا ہے جس سے اس فیصلے کے خلاف بہت شقوق نے جنم لیا ہے،
مجھے اس پیشی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
مشال خان کے والد اقبال لالا نے پشاور پر یس کلب میں پر یس کانفرنس سے خطاب
کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے میں رہا ہونے والے اور سزا کی معطلی پر
خیبرپختونخوا حکومت کے سرکاری ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے اس مقدمہ پر کوئی
اعتراض نہیں کیا، میں سپریم کورٹ سے اپیل کرتا ہوں کہ معتلی سزا کو مسترد
کرے، میں قانون کے دائرے میں رہ کر جدو جہد کررہا ہوں، میں اپنے ملک کے
حکمرانوں سے درخواست کرتا ہوں کہ میرا ساتھ دیں، چیف جسٹس سے بھی مطالبہ
کرتا ہوں کہ اس کا پھر سے ازخود نوٹس لے۔
اس موقع پر اقبال لالاکے وکیل نے کہا کہ اینٹی ٹیرارسٹ کورٹ میں ہائی کورٹ کو
اختیار نہیں ہے کیس معطل کرنے کا، ایبٹ آباد میں ہم نے درخواست دائر کی
کیوں کہ میرٹ پر فیصلہ نہیں کیا گیا، یہ ملزمان جن کو چار چار سال سزا دی
گئی تھی ان کی سزا کو بھی بڑھانے کے لیے ہماری درخواستیں عدالت میں ہیں۔
وکیل اقبال لالا نے شکوہ کیا کہ ہمیں کوئی اطلاع نہیں دی گئی سماعت کی،27
تاریخ میں لیے جانے والے سو موٹو کو نپٹا دیا گیا تھا بتایا گیا کہ اس کیس
میں سو موٹو کی ضرورت نہیں، ہمیں مختلف طریقوں سے ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی
گئی ہے۔
وکیل اقبال لالا نے مزید کہا ملک سے باہر کیسے گیا عارف اور پھر واپس کیسے آیا؟ ایرپورٹ انتظامیہ کہاں تھی۔