Mar 10, 2018 03:27 pm
views : 572
Location : Parliament House
Islamabad- Parliamentarians VOXPOP About Chairman Senate
اسلام آباد،نئے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے حوالے سے اراکین پارلیمنٹ کی رائے
چئیرمین و ڈپٹی چئیرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی 12 مارچ
کوہی جمع ہوں گے جو سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کرائے جائیں گے،چیئرمین سینیٹ
کے انتخاب میں 2 روز باقی رہ گئے ہیں جب کہ اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں نے
بھی اپنی سرگرمیاں مزید تیز کر دی ہیں۔
ن لیگ کی جانب سے رضا ربانی کو بطور چیئرمین سینیٹ منتخب کرنے کے لئے اشارہ
دیا گیا ہے تاہم زرداری صاحب اس فیصلے متفق نہیں ہیں جبکہ پاکستان تحریک
انصاف کی جانب سے چیئرمین سینیٹ بلوچستان اور ڈپٹی چیئرمین فاٹا سے لانے
کی کوششیں کی جارہی ہیں،اس سلسلے میں اراکین پارلیمنٹ نے اپنی اپنی رائے
کا اظہار کیا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسلیم
لیگ ن کی ایم این سے زیب جعفر کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی اکثریت ہے
اور ہم اپنا لیڈر لے کر آئیں گے تاہم پیپلز پارٹی کی جانب سے اپنے ہی
رہنما کو مسرد کرنا افسوسناک ہے۔
پی ٹی آئی رہنماشفقت محمود کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ بلوچستان سے ہونا چاہیے جو فیصلہ ہوگا سب کو ایک دو دن میں نظر آجائیگا۔
فاٹا سے تعلق رکھنے والے ایم این اے شاہ جی گل آفریدی کا کہنا تھا کہ جو
لوگ حکمرانی کرنا چاہتے ہیں وہ اپنے ہی سارے مسائل اسی کا نتیجہ ہیں،اگر
رضا ربانی کی چیئرمین سینیٹ منتخب کئے جانے پر اعراض تھا تو انکی کوئی
کمزوری ثابت کرنا چاہیے تھی انہوں نے 3 سال جس طرح اداروں کو چلارہے ہیں وہ
قابل تعریف اگر ہم نے رضا ربانی جیسے چیئرمین سینیٹ کو کھودیا تو یہ
ہماری بڑی ناکامی ہوگی۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ تین دن سے ایسی خبریں دیکھ رہا ہوں کہ پی پی اور پی
ٹی آئی میں اتحاد بننے جا رہا ہےتاہم ایسا کچھ بھی نہیں ہےجبکہ میری ذاتی
پیشینگوئی ہے کہ چیئرمین سینیٹ بلوچستان سے بنے۔