Sep 25, 2018 06:02 pm
views : 356
Location : Sindh Assembly
Karachi- Provincial Minister Nasir Hussain Shah Media Talk
کراچی، سزا یافتہ ضمانت پر رہا ہوسکتا ہے، ٹرائل کا سامنا کرنے والوں کو ضمانتیں نہیں مل سکتیں، ناصر حسین شاہ
سندھ کے وزیر برائے ورکس اینڈ سروسز سید ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت پر روز اول سے ہی الزامات کی بوچھاڑ ہوتی رہی ہے، ہم نے ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا، لاڈلوں کی طرح ہم نہیں ہوسکتے، میں نواز شریف کی ضمانت کے حق میں ہوں لیکن وہ سزا یافتہ ہیں اس کے باوجود انہیں ضمانت دی گئی جبکہ شرجیل انعام میمن اور ڈاکٹر عاصم کا ابھی تک ٹرائل چل رہا ہے اس کے باوجود نہ تو ان کو ضمانتوں پر رہا کیا جارہا ہے اور نہ ہی ان کو علاج کرانے کا حق دیا جارہا ہے۔
سندھ اسمبلی کے باہر ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران ناصر حسین شاہ کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے رہنماء ڈاکٹر عاصم پر مقدمات بنائے گئے، ڈاکٹر عاصم پر اربوں روپے کے کرپشن کے الزامات لگائے گئے، اتنا تو کبھی پاکستان کا بجٹ نہیں بنا جتنی کرپشن ان پر عائد کردی گئی، ان کا دہشت گردوں سے ناطہ تک جوڑ دیا گیا اور کئی ٹی وی چینلز نے تو را سے ان کا رابطہ بھی بتادیا لیکن بعد میں کیا ہوا۔ ڈاکٹر عاصم نے مقدمات کا سامنا کیا، پیشیاں بھگتیں، تین ماہ نیب کی تحویل میں رہے، نوے یوم رینجرز نے تفتیش کیلئے اپنے پاس رکھا اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس بھی رہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مفروضے پیپلز پارٹی کیلئے ہمیشہ آتے رہے ہیں، ہم لاڈلوں کی طرح نہیں ہیں، عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔انور مجید اور عبدالغنی کو ایف آئی اے نے ہسپتال منتقل کیا، سندھ حکومت کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ انور مجید بزرگ آدمی ہیں، ان کی عمر 80 برس تک پہنچ گئی ہے اگر کوئی بیمار ہے تو کیا یہ اس کا حق نہیں ہے کہ اس کا علاج ہو،میں میاں نواز شریف کی ضمانت کے حق میں ہوں لیکن وہ سزا یافتہ ہیں اس کے باوجود انہیں ضمانت دی گئیں جبکہ شرجیل میمن اور ڈاکٹر عاصم کے ابھی ٹرائل ہی چل رہے ہیں اس کے باوجود ان کو ضمانتیں نہیں دی جارہی اور نہ ہی ان کو علاج کرانے کا حق دیا جارہا ہے،یہ ناانصافی نہیں تو اور کیا ہے۔