Sep 27, 2018 04:55 pm
views : 343
Location : National Assembly
Islamabad- State Minister Shehryar Afridi Adresess In NA
اسلام آباد،پینتیس سال حکومت کرنے والوں کواپنی عزت تو پیاری ہے لیکن کراچی کے بچوں کا کون سوچے گا،شہریار آفریدی
وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں آج جو بچوں کے ساتھ ہورہا ہے اس پر میں حیران ہوں کہ آج پارلیمانی الفاظ کو تو اہمیت دی جا رہی ہے،لیکن ہمارے آنے والی نسلوں کو اہمیت نہیں دی جا رہی ہے،انکی بات سننے کو کوئی تیار نہیں ہے،زندہ باد اور مردہ باد کا نعرہ لگانے والوں کو نوکریاں تو مل جاتی ہیں لیکن غریب کو انصاف نہیں ملتا۔
اپوزیشن جماعتوں کے بائیکاٹ کے بعد وزیر مملکت شہریار آفریدی نے ایوان کو بتایا کہ مجھے سندھ حکومت نے بچوں کے جرائم کی رپورٹ ہی نہیں دی،انہوں نے سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر تھانوں کے ایس ایچ او چہیتے ہوں تو کیسے جرائم کا خاتمہ ہوگا ۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان کلمے کے نام پر بنا تھا لیکن ہمارے طور طریقے کسی بھی طریقے سے انسانیت کے معیار پر پورا نہیں اترتے،ایس ایچ او کو اپنے علاقے کی تمام معلومات ہوتی ہیں ،کسی بھی علاقے میں کوئی جرم ہو تو اس علاقے کا ایس ایچ او ذمہ دار ہوگا،لیکن اگر ایس ایچ اوسیاستدانوں کے ماتحت ہوگا تو عام پاکستانی سوال اٹھائےگا۔
وزیر مملکت نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی پر تنقیدکرتے ہوئے کہا کہ پینتیس سالوں سے اقتدار میں رہنے والی جماعتوں نے کراچی کےبچوں کا کیوں نہیں سوچا،انہیں اپنی عزت تو پیاری ہے لیکن کراچی کے بچوں کا کون سوچے گا۔