اسلام آباد،سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کی نااہلی کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست مسترد کردی
سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین کی نااہلی کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست مسترد کردی، وہ اب پارلیمانی سیاست سے باہر ہوگئے اور کوئی بھی عوامی عہدہ نہیں رکھ سکتے۔
چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی سپریم کورٹ کے بینچ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی اور جہانگیر ترین کی نظرثانی کی درخواستوں کی سماعت کی، جہانگیر ترین کے وکیل سکندر مہمند نے بینچ کے رو برو نظرثانی کی درخواست پر د لا ئل د یئے ، ایک موقع پر سکندر مہمند جذباتی ہوگئے اور تیز آواز سے بولنا شروع ہوئے۔عدالت نے وکیل کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اپنی آواز نیچے رکھیں اور چیخیں مت، عدالت کے احترام کو مدنظر رکھیں جس پر سکندر بشیر مہمند نے کہا معافی چاہتا ہوں مجھے اونچا بولنے کی عادت ہے۔
جہانگیر ترین نظر ثانی کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں سخت سوالات ہوئے، جس کے بعد سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کی نظر ثانی کی درخواست خارج کر دی,عدالت کے فیصلے کے بعد جہانگیر ترین پارلیمانی سیاست سے ہمیشہ کیلئے آوٹ ہوگئے۔
واضح رہے کہ عدالت نے جہانگیر ترین کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہل قرار دیتے ہوئے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ جہانگیر ترین نے اپنے بیان میں مشکوک ٹرمز استعمال کیں اور صحیح جواب نہ دینے پر انہیں ایماندار قرار نہیں دیا جاسکتا۔