اسلام آباد، وزیر اعظم عمران خان کا دورہ سعودی عرب کامیاب، تین اہم معاہدوں پر دستخط
وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے وزیر توانائی عمر ایوب کے ساتھ پی آئی ڈی میں وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کی بریفنگ دی۔
وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چودھری کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ یہ معاہدے وزیرِاعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کا تسلسل ہیں۔ ان معاہدوں کے تحت سعودی عرب پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر وترقی اور سی پیک منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے گا، اس سلسلے میں سعودی عرب کا اہم ترین وفد اتوار کو پاکستان کے دورے پر آئے گا۔
فواد چودھری نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے افغان مہاجرین سے متعلق بھی واضح پالیسی بنانے کا فیصلہ کیا ہے، اس وقت پاکستان میں 20 لاکھ افغان مہاجرین رجسٹرڈ جبکہ 5 لاکھ افغان مہاجرین غیر رجسٹرڈ ہیں۔ وفاقی وزیر نے ایک اور حکومتی فیصلے سے میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم 100 بڑے ڈیفالٹر کیخلاف بڑا آپریشن شروع کرنے جا رہے ہیں۔
انہوں نے دیگر فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کے علاوہ کراچی، گوادر اور دیگر ساحلوں کو ترقی دینے کا پروگرام بنایا گیا ہے، سیاحت کیلئے وزیرِاعظم کی سربراہی میں ٹاسک فورس بنائی جائے گی جبکہ ویج بورڈ ایوارڈ کے نئے چیئرمین کا تقرر کیا گیا ہے۔
وزیرِ اطلاعات نے بتایا کہ سرکاری اشتہارات کے حوالے سے اے پی ایس اور سی پی این ای سے تجاویز مانگی گئی۔
اس موقع پر وزیرِ توانائی عمر ایوب نے کہا کہ گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں کے حوالے سے کم بوجھ ڈالا گیا، اس طرح ماضی میں تیل کی قیمتوں کا فائدہ عوام کو منتقل نہیں کیا گیا تھا، وزیرِاعظم نے بار بار کہا کہ محنت کش اور کسانوں پر بوجھ نہیں ڈالنا۔
وزیرِ توانائی عمر ایوب نے بتایا کہ 2013ء میں ملکی قرضے کا حجم 15 ہزار ارب تھا، جو اب 2018ء میں قرضوں کا حجم 29 ہزار ارب جبکہ توانائی سیکٹر کے گردشی قرضوں کا حجم 640 ارب تک پہنچ چکا ہے اور گیس کے شعبے میں 150 ارب روپے کا گردشی قرضہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی ترسیل کا نظام بہت فرسودہ ہے، ماضی میں بجلی کی ترسیل کے نظام پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، ترسیل کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والی بجلی کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
عمر ایوب نے کہا کہ ہمیں مسائل ورثے میں ملے، گزشتہ حکومت نے گردشی قرضوں کی مد میں ہمارے لیے ایک ٹائم بم چھوڑا، اسد عمر نے منی بجٹ مجبوری میں پیش کیا، سارا بوجھ معیشت پر پڑا۔