Sep 27, 2018 12:00 am
views : 324
Location : Islamabad Hotel
Islamabad- Former Chief Justice Iftikhar Chaudhry addresses to ceremony
اسلام آباد، ہندو، سکھ، مسیح اور دیگر غیر مسلم اپنی شناخت لکھتے ہیں تو قادیانیوں کیوں نہیں لکھتے، افتخار چودھری
سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کا کہنا ہے کہ ہم نے 1974ء کے قانون میں تبدیلی نہیں ہونے دی اور نہ ہی نادرا میں تبدیلی ہونے دی، ہندو، سکھ، مسیح اور دیگر غیر مسلم جب اپنی شناخت لکھ سکتے ہیں تو قادیانی اپنی شناخت کیوں نہیں لکھتے۔
اسلام آباد میں منعقدہ جیورٹس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افتخار چودھری کا مزید کہنا تھا کہ الیکٹورل ایکٹ کا سلسلہ جب چلا اس میں بھی سیون بی کنڈیکٹ آف ایکشن دو ہزار دو میں خیانت سے کام لیا گیا اور اتنا بڑا جرم کیا گیا جس کے ڈیکلریشن کی وجہ سے وہ کہتا تھا میں ختم نبوت پر یقین رکھتا ہوں ختم کردیا گیا، ہمارے علمائے کرام اور کچھ ارکان نے اس بات کا نوٹس لیا اور پتہ چلا کہ راجہ ظفر الحق کی زیر نگرانی ایک کمیشن بنایا گیا، اس کمیشن کی رپورٹ سب نے پڑھی ہوگی، اس کمیٹی کی رپورٹ کے پیرا نمبر دس میں صاف صاف لکھا ہوا ہے اور جسٹس شوکت صدیقی نے مولانا اللہ وسایا والے کیس کے فیصلے میں اس کا ذکر بھی کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سب کمیٹی کی رپورٹ میں دو لوگوں کے نام سامنے آئے تھے ان میں سے ایک شفقت محمود اور دوسری انوشہ رحمن تھیں، شفقت محمود تو آج بھی وفاقی وزیر کے عہدے پر فائض ہیں۔ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کو عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے تو ان میں سے کسی کو کیوں نہیں ہٹایا گیا۔