اسلام آباد، قادیانی اپنی دستوری اور قانونی حیثیت یعنی غیر مسلم ہونے کو تسلیم کرے ، سینیٹر سراج الحق
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کا کہنا ہے کہ قادیانی اپنی دستوری اور قانونی حیثیت یعنی غیر مسلم ہونے کو تسلیم کرے جب تک قادیانی یا لاہوری اپنے مذکورہ دستوری وقانونی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے ان کو اہم کلیدی عہدوں، پالیسی ساز اداروں کی رکنیت یا مشیر وغیرہ مقرر کرنا خلاف آئین وقانون ہے، لہٰذا ایسا کرنے سے گریز کیا جائے۔
اسلام آباد میں منعقدہ جیورٹس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق کا مزید کہنا تھا کہ جیورٹس کانفرنس میں شریک ماہرین قانون، اعلیٰ عدلیہ کے ریٹائرڈ ججز حضرات، وکلاء تنظیموں کے عہدیداران اور سینئر وکلاء نے مسئلہ قادیانیت کے دستوری اور قانونی پہلو پر روشنی ڈالی اور تحفظ ناموس رسالت ﷺاور دنیا بھر کے مختلف مذاہب واقوام کے مقدس شخصیات کے حوالے سے ملکی وبین الاقوامی قوانین کی روشنی میں اپنی قیمتی آراء کا اظہار کیا۔
انہوں نے بتایا کہ شرکاء نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ایک عام انسان کی توہین کو روکنے کیلئے اقوام متحدہ کے ڈکلیریشن آف ہیومن رائٹس 10 دسمبر 1948 کی قرارداد نمبر 217 اور انٹرنیشنل کوویننٹ آف سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس کا اختیار کردہ 23 مارچ 1976ء موجود ہے لیکن دنیا بھر کے مختلف مذاہب اور قوموں کے مقدسات کے ناموس کے تحفظ یا توہین کو روکنے کیلئے کوئی بین الاقوامی معاہدہ یا قانون موجود نہیں ہے لہٰذا یہ جیورٹس کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ دستور کے آرٹیکل 260-3 میں مسلمان اور غیر مسلم کی جو تعریف بیان کی گئی ہے وہ واضح اور مکمل ہے جس کی روشنی میں قادیانی گروپ، لاہوری گروپ یا احمدی گروپ غیر مسلم ہے لہٰذا اس دستوری دفعہ کی تشہیر کی جائے تاکہ قادیانیوں کے متعلق ابہام کا خاتمہ ہوسکے اور ان کی دستوری حیثیت قوم اور دنیا کے سامنے مزید واضح ہوجائے۔
ان کا کہنا تھا کہ دستور کی دفعہ 5 کے تحت پاکستان کے ہر شہری کو پاکستان کے ساتھ وفاداری اور پاکستان کے دستور اور قوانین کی اطاعت ضروری ہے ، نیز اس پر عملدرآمد کیلئے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 سی موجود ہے لہٰذا قادیانی اپنی دستوری اور قانونی حیثیت یعنی غیر مسلم ہونے کو تسلیم کرے جب تک قادیانی یا لاہوری اپنے مذکورہ دستوری وقانونی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے ان کو اہم کلیدی عہدوں، پالیسی ساز اداروں کی رکنیت یا مشیر وغیرہ مقرر کرنا خلاف آئین وقانون ہے، لہٰذا ایسا کرنے سے گریز کیا جائے۔