اسلام آباد، صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان کا یوم تاسیس کے موقع پر پیغام
وزیر اعظم آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے آزاد جموں وکشمیر کے یوم تاسیس کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ میں اہل جموں وکشمیر اور اہل پاکستان سمیت دنیا بھر میں پاکستان اور جموں وکشمیر کے تارکین وطن کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 71 برس پہلے قلندری کی ایک پہاڑی پر غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں بے سروسامانی کی حالت میں ریاست جموں وکشمیر کی آزاد حکومت قائم کی گئی تھی اور سردارابراہیم اس کے بانی صدر بنے تھے، جن کی سری نگر کی رہائشگاہ پر 19 جولائی 1947ء کو یہ فیصلہ ہوچکا تھا کہ جموں وکشمیر کی پوری ریاست پاکستان کے ساتھ الحاق کرے گا۔
سردار مسعود خان نے کہا کہ ہم اس موقع پر رئیس الحراب چوہدری غلام عباس ، سردار محمد عبدالقیوم خان، کے ایچ کیو کو سلام پیش کرتے ہیں، جنہوں نے اس ریاست کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے کلیدی کردار ادا کیا تھا، یہ حکومت اس وقت بنی تھی جب آزاد کشمیر کے چپے چپے سے ہمارے شہداء اور غازی جموں وکشمیر کو مہاراجہ کے تسلط سے آزاد کروارہے تھے اور انہیں اس امر کا بھی علم تھا کہ ہندوستان کی حکومت مہاراجہ کشمیر، وائسرائے ماؤنٹ ویٹن اور ہندو انتہا پسند تنظیمیں سازش اور ساز باز کے ذریعے جموں وکشمیر پر ہندوستان کے قبضے کی فوجی تیاری کررہے تھے، مسلمانوں سے ان کے ہتھیار چھین لئے گئے تھے، اور ان کا قتل عام جاری تھا اس وقت اس خطے کے لوگ اٹھے اور انہوں نے آزاد کشمیر کو آزاد کروادیا، یہ مردان حر ،یہ مجاہدین آزادی پورے جموں وکشمیر کو بھی آزاد کرواسکتے تھے، اگر پوری فوجی تیاری کے ساتھ بھارت جو کئی مہینوں پر محیط تھی 27 اکتوبر کو جموں وادی کشمیر اور لداخ کے کئی حصوں پر قبضہ نہ کرلیتا۔
صدر آزاد جموں وکشمیر کا یہ بھی کہناتھا کہ آج کے دن ہم اپنے قائدین ، ان شہیدوں اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے آزاد کشمیر کی شکل میں جموں وکشمیر میں آزادی کی شمع جلائی تھی اور وہ شمع آج بھی روشن ہے۔ یہ ریاست اہل جموں وکشمیر کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک تحفہ ہے اور اس کی طرف سے ایک امانت بھی ہے، اس ریاست میں اللہ تعالیٰ کی مشیعت بھی شامل ہے اور پاکستان کی مدد بھی شامل ہے، ہم اس وقت تک آزادی کی جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک پوری ریاست کے لوگ حق خود ارادیت حاصل نہیں کرلیتے، ہمارے اسلاف کا مشن آج کی نسلیں پورا کررہی ہیں، بھارت کے قبضے کو سات دہائیاں گزر چکی ہیں لیکن مقبوضہ جموں وکشمیر کے لوگوں کا ایک ہی پیغام ہے، بھارت جاؤ، واپس چلے جاؤ، ہمارا کشمیر چھوڑ دو۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فوج طاقت اور دہشتگردی کے ذریعے اپنے قبضے کو مستقل کرنا چاہتی ہے جس میں وہ برے طریقے سے ناکام ہوچکی ہے۔ ہم اپنے سیاسی اور سفارتی ذرائع سے اپنی سفارتی اور سیاسی جدوجہد سے یہ مسئلہ حل کراوائیں گے ، حم حق پر ہیں، ضرور کامیاب ہوں گے، ہم مقبوضح کشمیر کی مشٹرکہ قیادت کو سلام پیش کرتے ہیں، اور وہاں کے نوجوانوں، بوڑھیوں، نوجوانوں، ماؤں، بہنوں اور بچوں کو جو اس استقامت سے آگ کے دریا سے گزررہے ہیں، ریاست آزادکشمیر کی اولین ترجیح آزادی کشمیر ہے او راس کے ساتھ ہم علاقے میں شفاف حکمرانی اور معاشی ترقی کیلئے بھی کوشش کررہے ہیں، ہمیں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے مقاصد کے حصول میں ہماری مدد کرتا رہے گا اگر آزاد کشمیر کا خطہ وجود میں نہ آتا اور برقرار نہ رہتا تو مسئلہ کشمیر ختم ہوچکا ہوتا، جیسے جونا گڑھ اور حیدر آباد کے مسئلے دم توڑ چکے ہیں، آزاد کشمیر ہماری منزل نہیں، بلکہ نشان راہ ہیں تاکہ ہم تحریک تکمیل پاکستان کو ایک حقیقت بناسکیں ، اللہ تعالیٰ ہمارا حامی وناصر ہو، آزاد کشمیر زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔