اسلام آباد، وزیر اعظم عمران خان نے کرپٹ مافیا کے خلاف طبل جنگ بجادیا
وزیرا عظم عمران خان نے قوم سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہمیں سعودی عرب سے زبردست پیکج مل گیا، آئی ایم ایف سے زیادہ قرض لیتے تو نقصان عوام کوو ہوتا، پرانے قرضوں کی وجہ سے عوام پر پہلے ہی مہنگائی کا دباؤ ہے، حکمت عملی تھی کہ آئی ایم ایف سے کم سے کم قرضہ لیں، آنے والوں دنوں میں مزید خوشخبریاں قوم کو ملیں گی، کچھ اور دوست ملکوں سے بھی قرض لے رہے ہیں۔حکومت سنبھالتے ہی قرضوں کی واپسی کا بوجھ بڑھ گیا، قرض واپس نہ کرے تو دیوالیہ ہوجاتے۔
وزیر اعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ یمن میں جاری لڑائی سے مسلمان دنیا تکلیف میں مبتلا ہے، پاکستان یمن کی جنگ میں ثالث کا کردار ادا کرے گا، ہماری کوشش ہے کہ مسلمان ملکوں کو اکٹھا کریں۔
وزیر اعظم عمران خان نے یہ بھی کہا کہ پچاس لاکھ گھر بنانے سے چالیس صنعتیں ترقی کریں گی، غریب آدمی کیلئے جلد اسپیشل پیکج کا اعلان کروں گا، تھوڑا مشکل وقت ہوگا پھر ترقی کا عمل شروع ہوگا، کرپشن روکیں گے تو ملک تیزی سے ترقی کرے گا، قوم فکر بالکل نہ کرے، ملک برے وقت سے نکلے گا، پاکستان میں کرپشن نیچے آگئی، مزید نیچے آئے گی، دو دن دور نہیں جب ہم دوسرے ممالک کو قرضے دیا کریں گے۔
وزیر اعظم عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قرضے بڑھنے کی وجہ ہی منی لانڈرنگ ہے، دس سال میں پاکستان پر قرضہ تیس ہزار ارب تک پہنچ گیا، 2008ء میں پاکستان پر قرضہ چھ ہزار ارب روپے تھا، گزشتہ حکومتیں ورکرز کا ویلفیئر فنڈ بھی کھاگئیں، جو نقصان گزشتہ دس سال میں ہوا ہے اس کو ٹھیک کررہے ہیں، تیس ہزار ارب روپے کا آڈٹ کرائیں گے تو کرپشن سامنے آئے گی، تنقید کرنے والی جماعتوں کو شرم آنی چاہیے، اپوزیشن جماعتیں دباؤ ڈال کر ہم سے این آر او لینا چاہتی ہیں، پرویز مشرف نے دباؤ میں آکر این آر او دیا لیکن کان کھول کر سن لو این آر او نہیں ملے گا، دوبارہ کہہ رہا ہوں احتساب سب کا ہوگا، کرپٹ لوگوں کو جیلوں میں ڈالوں گا۔