کراچی، دین اسلام میں کوئی جبر نہیں ہے، فاروق ستار
متحدہ قومی موومنٹ کے مستعفی رکن رابطہ کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ دین اسلام میں کوئی جبر نہیں ہے، اس کی زندہ مثال شہدائے کربلا کی لازوال قربانیاں اور ایثار ہے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ ملک پاکستان میں بھی اگر ہمیں اپنے معاشرے میں اعتدال اور استحکام قائم کرنا ہے تو ہمیں اسی ایثار اور قربانی کے جذبے کو اجاگر کرنا ہوگا جو امام عالی مقامؓ اور ان کے رفقاء نے جو شہادتیں قبول کیں مگر سر نہیں جھکایا۔
چہلم کے مرکزی جلوس میں شرکت کے موقع پر ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا یہ یقین ہے کہ شاید کربلا کے واقعے سے پہلے شیعہ اور سنی کا کوئی تصور تھا، واقعہ کربلا کے بعد دو ہی طبقے ہیں ایک حسینی طبقہ ہے اور ایک یزیدی طبقہ ہے اب یہ لوگ فیصلہ کرلیں کہ وہ اپنا شمار اور اپنا تعارف حسینی طبقہ یا یزیدگی طبقے میں کرانا چاہتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ میں حکومت سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بھی شکریہ ادا کروں گا کہ ان کی بساط میں جو ممکن تھا انہوں نے یہاں سیکیورٹی کے انتظامات کئے ہیں، میری دعا ہے کہ ان انتظامات کو بہتر بنانے کیلئے جو عزاداری کی انجمنیں ہیں جو مختلف ایسوسی ایشنز ہیں ان کے ساتھ اور تعاون بڑھایا جائے جبکہ کمیونٹی پولیس کے قیام سے اور زیادہ سیکیورٹی کا نظام مستحکم ہوگا،ساتھ ساتھ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی کونسل کو بھی کردار دیا جائے۔