اسلام آباد، اپوزیشن کے پاس نیک پا لوگ بھی نہیں، فواد چوہدری
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ چین ہمارا اسٹرٹیجک اور اکنامک پارٹنر ہے، چین اور پاکستان کے لوگوں کے دل ایک دوسرے کے ساتھ دھڑکتے ہیں، وزیرا عظم عمران خان کا دورہ چین پاک چین تعلقات میں ایک نئے دور کا اضافہ کرے گا۔
اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ دو دنوں میں اسٹاک مارکیٹ میں چودہ سو پچاس پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ ایک دہائی کا سب سے بڑا اضافہ ہے اور یہ حکومت کی حالیہ کامیابیاں اور معاشی پالیسیوں پر سرمایہ کاروں کا اعتماد کا مظہر ہے۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے فضاء سازگار ہورہی ہے۔ پاکستان میں جس گرداب کو نواز شریف اور پیپلز پارٹی کی حکومت نے چھوڑا تھا اس سے کافی حد تک باہر نکل آئے ہیں، پاکستان سے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ ٹل چکا ہے، ابھی تو محض 70 دنوں کی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، ان کامیابیوں کیلئے ہم نے وزیر اعظم عمران خان کی بین الاقوامی توقعات سے فائدہ اٹھایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سٹیزن پورٹل پر اب تک ایک لاکھ کے لگ بھگ مختلف شکایات آئی ہیں، نصب کا پنجاب سے تعلق ہے، بیس ہزار کے قریب سندھ سے اور باقی خیبرپختونخواہ اور بلوچستان سے متعلق ہے۔ اتوار سے سٹیزن پورٹل کی شکایات پر عملدرآمد اور داد رسی کی جائے گی۔ یہ ٹول تو ترقی یافتہ ممالک میں بھی نہیں ہے جو وزیر اعظم ہاؤس میں لگایا گیا ہے۔
فواد چوہدری کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئی جی اسلام آباد کے معاملے پر کچھ وضاحتیں ضروری ہیں، اعظم سواتی غلط ہیں یا صحیح مسئلہ یہ نہیں ہے۔ آئی جی یہ کیسے کرسکتے ہیں کہ وفاقی وزیر کا فون اٹینڈ نہ کریں، شہریار آفریدی نے بھی اس سے پہلے وزیر اعظم کو شکایت کی اور کہا کہ آئی جی تعاون نہیں کررہے، اسکولوں اور کالجوں میں آئس ڈرگ فروخت ہورہی ہے۔ منشیات فروشوں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جارہی۔ تھانوں اور ناکوں پر رشوت کی شکایات ہیں، آئی جی کوئی کارروائی نہیں کررہے۔چیف ایگزیکٹو ملک کا وزیر اعظم ہے، صوبے کا چیف ایگزیکٹو وزیرا علیٰ ہے، آئی جی ، چیف سیکریٹری چیف ایگزیکٹو نہیں ہیں وہ عوام کو جوابدہ نہیں، وزیرا علیٰ اور وزیر اعظم کو جواب دیں ہیں، وزیرا عظم اور وزیرا علیٰ اسمبلی کے ذریعے عوام کو جوابدہ ہیں۔ بیورو کریٹس کے ذریعے ہی اگر حکومت چلانی ہے تو الیکشن نہیں کرانا چاہیے تھے، اگر وزیر اعظم آئی جی کو بھی معطل نہیں کرسکتا تو پھر الیکشن کرانے کا کیا فائدہ ہوا ۔بیورو کریسی بعض معاملات پر حکومتی پالیسیوں پرعمل پیرا نہیں۔ وزیرا علیٰ اور وزیر اعظم کے اپنے اختیارات ہیں، وہ اپنے اختیارات استعمال ضرور کریں گے، وہ حق بجانب ہیں لیکن سپریم کورٹ سب سے قابل احترام ادارہ ہے۔
فواد چوہدری نے بتایا کہ تیس سال پہلے وزیر اعظم عمران خان نے مورا نور یوسی کی اجازت سے اپنی رہائشگاہ تعمیر کروائیں، اس وقت یہ حدود سی ڈی اے میں نہیں آتی تھی۔
ایک سوال کے جواب میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی سیاست اتنی ہی رہ گئی ہے کہ وہ دوسروں کو ملنے پارلیمنٹ آسکتے ہیں،ان کی عملی سیاست ختم ہوگئی ہے۔ اے پی سی کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے، اے پی سی صرف این آر او لینے کیلئے ہورہی ہے۔ آج عمران خان فضل الرحمن، نواز شریف اور زرداری کو یقین دلادیں کہ ان کے خلاف جو مقدمات ہیں واپس لے لئے جائیں یا نہ جلائے جائیں تو تمام جمہوریت بھی بحال ہے اور ملک عدم استحکام کاشکار بھی نہیں لیکن وزیر اعظم عمران خان کہہ چکے ہیں کہ کسی کو بھی این آر او نہیں ملے گا۔
ایک اور سوال کے جواب میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین بنائیں گے تو کیا وہ اجلاس جیل میں بلائیں گے، اپوزیشن کے پاس نیک پا لوگ بھی نہیں ہیں، جس پر ہاتھ رکھتے ہیں، ان پر نیب کے کیس آدھے درجن سے کم نہیں ہیں۔