کراچی،وفاداری اور محبت کا پیکر ذوالجناح
آج ملک بھر میں امام عالی مقام حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کا چہلم عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے،اس سلسلے میں علم، ذوالجناح اور تعزیے کے جلوس برآمد کئے جارہے ہیں،ذوالجناح امام عالی مقام ؓکے اس گھوڑے کا نام ہے جو کربلا میں ان کے ہمراہ تھا،ذوالجناح کو وفاداری اور محبت کا پیکر سمجھا جاتا ہے۔
کربلا کے بے آب و گیاں صحرا جہاں دوست کم اور دشمن زیادہ تھے، امام عالی مقامؓ پر جان وارنے والے ساتھیوں کے علاوہ بے زبان ذوالجناح بھی تھا جس نے اپنی محبت و وفاداری کا ثبوت لہو کا نذرانہ پیش کر کے دیا۔
یزیدی تیروں سے نواسہ رسولﷺ زخموں سے چور چور ہوئے تو یہ جانثار ان کے گرد چکر لگانے لگا، امام حسین ابن علیؑ کی شہادت کے بعد ذوالجناح نے دشمن کے تیس سے زائد سپاہیوں کو کچل ڈالا تھا، روایت کے مطابق امام حسینؑ کی شہادت کے بعد ذوالجناح،، ان کی تلوار اور دستار خیموں میں لانے کے بعد دریائے فرات کی طرف گیا، لیکن اس کے بعد کسی نے اسے نہیں دیکھا۔
اہل تشیع سارا سال نہایت محبت اور عقیدت کے ساتھ ذوالجناح کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور اسے 10 محرم الحرام کے جلوس کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔
مرکزی جلوس کیلئے شبیہ ذوالجناح کو خصوصی طور پر تیر،تلوار،زرہ اور دیگر مختلف قسم کی اشیا جن سے سجایا جاتا ہے،جلوس میں ذوالجناح بر آمد کیا جاتا ہے، جلوس کے دوران عزا دار شبیہہ ذولجناح کے گرد ماتم کر کے امام کو پرسہ پیش کرتے ہیں۔
جلوس کے موقع پر ذوالجناح کو سجا کر جلوس میں شامل کیا جاتا ہے اور اس کے جسم پر جگہ جگہ تیر باندھ کر کربلا کی جنگ، امام کی عظیم قربانی اور ذوالجناح کی ان سے وفا کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔
ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے شبیہ ذوالجناح کی خدمت اور دیکھ بھال پر معمور نوجوان ذیشان شیرازی کا کہنا تھا کہ ہمارے عقیدے کے مطابق امام حسینؓ ہماری خدمت کو قبول کرتے ہیں۔
ذیشان شیرازی کا کہنا تھا کہ ذوالجناح کی ہم شبیہ بر آمد کرتے ہیں ذوالجناح کو نبی اکرمﷺ نے امام حسین کو تحفے میں دیا تھا۔
خدمتگار کا کہنا تھا کہ شبیہ ذولجناح کیلئے ہم نسل دیکھ کر گھوڑا لیتے ہیں۔
ذیشان شیرازی کا کہنا ہے کچھ عرصے کے بعد یہ خود پہچان پیتے ہیں کہ یہ عام نہیں بلکہ خاص ہیں۔
خدمتگار کا مزید کہنا تھا کہ ان کی نسبت سے صرف شیعہ ہی نہیں بلکہ اہلسنت بھی منتیں مانگتے ہیں۔