اسلام آباد،کل کے خطاب میں عمران خان کا انداز جارحانہ تھا ،خواجہ سعد رفیق
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے آج ہمارا غیر رسمی مشورہ ہوا ہے اس صورتحال میں کوئی سیاسی فائدہ نہیں اٹھانا چاہتا،اگر ہماری حکومت یقین نہیں کرتی تو ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ ملک میں بحرانی کیفیت پیدا ہو رہی ہے،کچھ عناصر مذہب کا نام استعمال کرتے ہوئے سڑکوں پر ہے۔
خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہورہا ہے گزشتہ سے پیوستہ ہے،جو مذہبی کارڈ ن لیگ کے خلاف استعمال کیا گیا آج وہی تحریک انصاف کے خلاف استعمال ہورہا ہے،وزیر اعظم کے خطاب کےحوالے سے سعد رفیق کا کہنا تھا کہ کل کے خطاب میں عمران خان کا انداز جارحانہ تھا ہم سمجھتے ہیں ،حکمران کا لب و لہجہ جارحانہ نہیں ہونا چاہیے،حکمران سب کیلئے ہوتا ہے اسکے پاس اختیار ہوتا ہے،آج وزیر اعظم کو ایوان میں آنا چاہیے تھا اور جواب دینا چاہیے تھا یہ ہم سب کی ذمہ داری ہےجو حکومت پر زیادہ عائد ہوتی ہے۔
خواجہ سعد رفیق کا مزید کہنا تھا کہ سڑکیں اور کاروبار بند کرنا مناسب نہیں لیکن وزیر اعظم جو پہلے شہروں اور کاروبار کو بند کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے انہیں آج اپنے ان اقدامات پر نادم ہونا چاہیے جو وہ پہلے کرتے تھے ۔