کراچی، مظاہرین پر تشدد سے گریز کیا جائے، ورنہ حالات قابو سے باہر ہونگے، مفتی منیب
روئیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ آسیہ مسیح کی رہائی کے فیصلے پر پہلے ہی دکھی ہیں اور پورے ملک میں سراپا احتجاج ہیں، یہ چھوٹا گروہ نہیں بلکہ ملک کی ایک غالب اکثریت ہے،جو جذبہ محبت رسول ﷺ سے سرشار ہے۔ اسی سبب اتحاد تنظیم مدارس پاکستان کی پانچوں تنظیموں نے ان کے موقف کی حمایت کی ہے، تمام مکاتب فکر کی مذہبی تنظیمیں بھی احتجاج میں شریک ہیں۔ پرامن احتجاج ہر ایک کا آئینی حق ہے۔ حساس موقع پر وزیر اعظم کے جارحانہ لب ولہجے نے صورتحال کو مزید سنگین بنادیا ہے۔
مفتی منیب الرحمن کا مزید کہنا تھا کہ آج کی ہڑتال کو کامیاب بنانے پر ملک بھر کی کاروباری تنظیموں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یہ ان کے ایمان کا تقاضا ہے ، اس میں حصہ ڈالنے پر انہیں اللہ تعالیٰ کے حضور شکر گزار ہونا چاہیے، حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو متنبہ کرتے ہیں کہ احتجاج کرنے والوں پر کسی بھی قسم کے تشدد سے گریز کیاجائے، بصورت دیگر حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں۔ حکومت کے بااختیار ذمہ داران تحریک لبیک پاکستان کی قیادت سے براہ راست مذاکرات کریں۔ نریندر سنگھ مودی سے تو مذاکرات کیلئے ہم بے چین ہیں اپنے اہل وطن سے براہ راست مذاکرات میں آخر رکاوٹ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد تنظیمات مدارس کے قائدین تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام سے اپیل کرتے ہیں کہ کل جمعۃ المبارک کے خطبات میں اپنا احتجاجی موقف ریکارڈ کرائیں اور قراردادیں پاس کریں۔پاکستان کے نام نہاد آزاد میڈیا کی جانبداری کی مذمت کرتے ہیں۔ دینی لوگوں کے پرامن احتجاج کا بلیک آؤٹ کیا گیا ہے اور ان کا موقف عوام تک نہیں پہنچنے دے رہے، تاہم وزیر اعظم نے ان کا موقف پی ٹی وی کے ذریعے ملک کے کونے کونے تک پہنچادیا۔ میں ان کا شکر گزار ہوں۔