div name="str">پاکستان تحریک انصاف کے سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی
کا کہنا ہے کہ پچاس لاکھ گھروں کے حوالے سے بہت بیانات سامنے آرہے ہیں کہ
یہ گھر بنے گے کیسے؟ لہٰذا میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں 144
اضلاع ہیں اور دس لاکھ گھر ہر سال بنائے جائیں گے۔ چھ ہزار دو سو گھر ہر
ضلع میں بناکر دس لاکھ گھروں کی تعمیر کو مکمل کیا جائے گا۔
آئی ایس اے اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس
کانفرنس کرتے ہوئے فردوس شمیم نقوی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں تمام
اعداد وشمار اس امر غمازی کرتے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں ایک کروڑ بیس
لاکھ گھروں کی کمی ہے۔ ہمارا ہدف پانچ سال میں پچاس لاکھ مکانات کی تعمیر
اور ہر سال میں دس لاکھ گھر تعمیر کرنا ہے۔ اس وقت اس ملک میں جیسے بھی
حالات ہیں ڈیٹا یہ ظاہر کرتا ہے کہ تین لاکھ سے ساڑھے تین لاکھ گھر سالانہ
تعمیر ہورہے ہیں لیکن ہم اس تعداد کو دس لاکھ تک لے کر جائیں گے۔ بدقسمتی
سے گھر غریب طبقے اور متوسط طبقے کو گھر نہیں مل پاتے اور امیر طبقہ ساڑھے
تین لاکھ گھروں کا مالک بن جاتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہم گھروں کی تعمیر کیلئے قرضہ دس سال کی بجائے بیس سال
کیلئے دیں گے۔ہماری کوشش ہوگی جو لوگ اس وقت کرایہ دیتے ہیں اس مکان کے
حصول کیلئے بیس فیصد ادائیگی کو یقینی بناکر اسی فیصد قرضے پر مکان کے مالک
بن سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہاؤسنگ اسکیم کے تحت دیہی علاقوں میں ڈیڑھ سے دو لاکھ سالانہ مکانات تعمیر کئے جائیں گے۔