اسلام آباد، تین دنوں تک ریاست کی ساکھ کو سرے عام چیلنج کیا گیا، شیری رحمن
پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی سینیٹر شیری رحمن کا کہنا ہے کہ ریکوزیشن کے بعد ہمارے سامنے جو حالات رونما ہوئے اور ملک جس نہج پر کھڑا ہے اس پر مقصود ہے کہ ہم بات کریں۔
سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے شیری رحمن کا مزید کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے کہ ہم چاہتے ہیں پاکستان کی بقاء، سالمیت استحکام ،ریاست اور آئین ان سب کی ساکھ مجروح ہو ۔ پاکستان کی بقاء اور سالمیت کیلئے ہم سب متحد ہیں، اس میں کوئی دورائے نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بقاء کیلئے یہ ہاؤس آف فیڈریشن ہے جو ایک عرصے کے بعد ملا ہے ظاہر ہے جو ہم نے دیکھا ان تین دنوں میں پورا پاکستان معطل تھا ، مجھے معلوم ہے کہ یہاں کہا جائے گا کہ یہ تو پہلے بھی ہوچکا ہے، اس طرح کے معاہدے ان لوگوں کے ساتھ ہوچکے ہیں جنہوں نے ریاست کی ساکھ کو سرے عام سڑکوں پر ، بازاروں، گلیوں میں چیلنج کیا ہے ۔
سینیٹر شیری رحمن نے چیئرمین سینیٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت جو ہوا ہے ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے ،یہ عین ممکن ہے کہ ہم اس قسم کے موڑ کے بعد اگر سوچ بچار کے ساتھ ایکشن نہ لیں تو ہم ایسی بند گلی میں نہ چلے جائیں جہاں سے واپسی ہمارے مستقبل کی نسلوں کیلئے مشکل ہوجائے۔