اسلام آباد، ذوالفقار علی بھٹو جمہوریت کے داعی تھے، راجہ پرویز اشرف
پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ میں کسی بحث میں نہیں الجھنا چاہتا لیکن تھوڑی دیر پیشتر رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع نے اپنی تقریر میں ایک بات دو مرتبہ دہرائی، میں ضروری سمجھتا ہوں کہ اس بات کی وضاحت ہوجائے۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے راجہ پرویز اشرف کا مزید کہنا تھا کہ مشرقی پاکستان جب علیحدہ ہوا تو اس وقت کے تناظر میں ایک نعرہ بلند ہوا تھا کہ ادھر تم اور ادھر ہم لیکن بدقسمتی سے یہ ایک غلط العام فقرہ ہے، اس کے پیچھے ایک تاریخ ہے، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے یہ فقرہ کبھی نہیں دہرایا۔
انہوں نے کہا کہ ایک کالم نویس عباس اطہر جو کنکریاں کے نام سے کام لکھا کرتے تھے انہوں نے اپنے کالم میں تین مرتبہ سے زیادہ وضاحت کی کہ یہ تاریخی طور پر مکمل جھوٹ پر مبنی بات تھی جس کو ذوالفقار علی بھٹو سے منسوب کیا گیا، مولانا عبدالواسع سینئر سیاستدان ہیں، انہوں نے بھٹو صاحب کا نام تو نہ لیا لیکن میں وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
راجہ پرویز اشرف کا یہ بھی کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں آج نئے سیاستدان آئے ہیں شاید انہوں نے 70ء کی دہائی نہیں دیکھی،ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو 73 ء کا آئین دیا، یہ ہاؤس بھی انہی کا مرہون منت ہے، پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا، اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کرسکتا، شہید ذوالفقار علی بھٹو ہی تھے جنہوں نے نومولود ملک کو مستحکم ملک بنایا اور ایٹمی پاکستان بنانے کیلئے قدم اٹھایا، نوے ہزار جنگی قیدیوں کو واپس لائے، ہزاروں میل کا مربع علاقہ دشمنوں سے واپس لیا، ذوالفقار علی بھٹو جمہوریت کے داعی تھے، جنہوں نے جمہوریت کیلئے پھانسی کا پھندا چوما ہو ایسی شخصیت کیلئے ایسے جملے منسوب کرنے کی میں مذمت کرتا ہوں۔