وزیرِ
اعظم عمران خان سے صوابی، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور پشاور سے تعلق رکھنے
والے اراکینِ اسمبلی نے وزیرِ اعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔اسپیکر قومی
اسمبلی اسد قیصر، وزیرِ دفاع پرویز خٹک، وزیر مملکت علی محمد خان اور معاون
خصوصی نعیم الحق بھی ملاقات میں موجود تھے۔
اراکین اسمبلی نے وزیرِ اعظم کو اپنے حلقوں سے متعلقہ مسائل سے آگاہ کیا۔
اس موقع پر خیبر پختونخواہ کی مجموعی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بھی بات
چیت کی گئی۔
وزیرِ اعظم کی ممبران قومی اسمبلی کو انکے متعلقہ حلقوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی۔
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ امن و امان کا قیام اور قانون کی حکمرانی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ پی ٹی
آئی نے نہایت مشکل مالی حالات میں حکومتی باگ دوڑ سنبھالی ہے، ہماری اولین
ترجیح
تھی کہ دوست ملکوں کی مدد سے اس وقت ملکی معیشت کو سہارا دیا جائے
تاکہ عوام کو مشکلات سے ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کیا جا سکے، حکومت
برآمدات کو بڑھانے کی غرض سے ایکسپورٹ انڈسٹری کو مطلوبہ سہولیات فراہم
کرنے پر بھی کام کر رہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ شہریوں کے لئے صحت ، تعلیم و
دیگر سہولتوں کی فراہمی کے لئے بھی کوششیں جاری ہیں۔
وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت کے پچاس لاکھ
گھروں کے منصوبوں سے جہاں لوگوں کو گھروں کی سہولت میسر آئے گی وہاں معیشت
کا پہیہ بھی چلے گا اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔ مختلف
شہروں میں ناداروں اور بے آسرا لوگوں کو عارضی شیلٹر اور دو وقت کھانے کی
سہولت فراہم کرنے پر بھی کام جاری ہے۔ جن اراکین اسمبلی کے حلقوں میں بے
نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی طرف سے سروے نہیں کیا گیا وہ اس سلسلے میں
حکومت کو آگاہ کریں تاکہ ترجیحی بنیادوں پر ان علاقوں میں غربت کا سروے کیا
جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک مشکل صورتحال سے گزررہا ہے لیکن انشا اللہ آئندہ چھ ماہ میں
واضح بہتری دیکھنے میں آئے گی۔ اس ملک میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، ملک میں دس
کروڑ کی آبادی 35 سال سے کم عمر ہے جو اس ملک کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت
رکھتی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت اپنے منشور کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلے میں
پرعزم ہے۔ حکومتی وزرا اپنی کارکردگی کے حوالے سے جواب دہ ہیں، حکومتی
وزرا کی کارکردگی کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔