وزیراعظم
عمران خان کی زیر صدارت غربت کے خاتمے اوراس سے متعلقہ دیگر اصلاحات کے
بارے میں اجلاس ہوا۔ وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں وزیرخزانہ
اسد عمر ، وزیر منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار، مشیر
برائے اسٹیبلشمنٹ محمد شہزاد ارباب ،چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام
ڈاکٹر ثانیہ نشتر،ایم ڈی بیت المال عون عباس بپی،سی ای او این آر ایس پی
ڈاکٹر رشید باجوہ ، سی ای او پاکستان پاورٹی ایلیوی ایشن فنڈقاضی عصمت
عیسیٰ، سی ای او پاکستان مائیکرو انوسٹمنٹ کمپنی یاسر اشفاق اور دیگر اعلیٰ
حکام شریک تھے۔
اجلاس میں غربت کے خاتمے اور دیگر متعلقہ اقدامات اور
اصلاحات کے بارے میں وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں جامع اور مربوط
حکمت عملی پر غور بھی کیا گیا۔
اجلاس میں فنی تعلیم کی ترویج ، روزگار کے مواقع میں اضافہ،مالی امدادتک رسائی،سستی
رہائش ،سماجی تحفظ اور صحت انصاف کارڈکے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسٹنٹڈ گروتھ کی وجہ سے ملکی معیشت کی جی ڈی پی
میں سالانہ 3فیصدنقصان اٹھانا پڑتا ہے۔بلوچستان اور سابقہ فاٹا کے علاقے سب
سے زیادہ متاثر ہیں۔شرکاءکو بتایا گیا کہ غربت اور اسٹنٹنگ میں براہ راست
تعلق ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اسٹنٹڈ گروتھ صحت کے شعبے میں سب سے اہم مسئلہ ہے۔جو ہمارے بچوں کو ترقی
کے مساوی مواقع سے محروم کردے گا۔اس حوالے سے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت
ہے۔ پی ٹی آئی حکومت غربت کے خاتمے کوصرف مالی امداد تک محدود نہیں رکھنا
چاہتی بلکہ دیگر شعبوں میں اصلاحات اور روزگار کے مواقع فراہم کرکے ایک
پائیدار حل چاہتی ہے۔
وزیر
اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسٹنٹڈ گروتھ کے حل کے لیے صحت ،
تعلیم،خوراک،ماحولیات اوردیگر متعلقہ شعبوں میں ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ غربت
کے خاتمے کے لیے نچلی سطح پر لوکل گورنمنٹ کے نظام کو استعمال کیا
جائے تاکہ ضرورتمندوں تک پہنچا جا سکے او ر اخراجات کا ضیاع نہ ہو
۔