کراچی، پاکستان بھر کی جیلوں کی حالت زار پر نظرثانی کی ضرورت ہے، شرجیل انعام میمن
پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن سندھ اسمبلی شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ کراچی سینٹرل جیل میں پچاس رپورٹڈ قیدی ایسی ہیں جو ایڈز کی بیماری میں مبتلا ہیں لیکن ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ اگر زیادہ ویکسی نیشن کی جائے تو یہ تعداد پانچ سو تک پہنچ سکتی ہے۔
سندھ اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ یقیناًً پورے پاکستان بھر کی جیلوں میں یہی صورتحال ہوگی، لہٰذا جیل مینوئل کو بھی ازسرنو دیکھنے کی ضرورت ہے جبکہ قیدیوں کی خاندان کے ساتھ ملاقات کو بہتر بنانا بھی وقت کا تقاضا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حوالے سے جب بھی اسٹینڈنگ کمیٹی بنائی جائے گی اس میں تمام سیاسی جماعتوں کے اراکین کو شامل کیا جانا چاہیے اور میری تجویز یہ ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے لوگ جیلوں کا دورہ کریں اور وہاں کے قیدیوں کے حقیقی مسائل کو دیکھیں۔ جیل میں مقید قیدیوں کی انسانی بنیادوں پر مزاج پرسی ہونی چاہیے۔
شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ جیل میں ایک بہت اچھے آرٹسٹ بھی قیدی ہیں۔ وہ بہت اچھی تصویر کشی کرتے ہیں ان کو دو سو گیارہ برس کی جیل ہوئی ہے اور تقریباً وہ ستائیس برس کی عمر میں جیل آکر سولہ یا سترہ برس کی جیل کاٹ چکے ہیں، گزشتہ بارہ برس سے ہائی کورٹ میں ان کی اپیل تعطل کا شکار ہے۔