کراچی:تنخواہوں کی عدم فراہمی،پورٹ قاسم ڈاک ورکرز کے بچوں کا احتجاج
پورٹ قاسم کے ڈاک ورکرز گزشتہ 48 روز سے پریس کلب کے باہر احتجاج پر ہیں. اتوار کو ملازمین کے بچوں کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو گیا اور وہ سڑکوں پر نکل آئے. متاثرہ ملازمین کے بچے بڑی تعداد میں پریس کلب پہنچے اور خاموش احتجاج کیا. متعدد بچے اسکول یونیفارم میں تھے بچوں نے احتجاجا پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر نعرے درج تھے کہ ہمارے بابا کو تنخواہیں دی جائیں، ہم پڑھنا چاہتے ہیں، ہمارے بابا کو نوکری سے نا نکالو، ہمیں عزت دو، چیف جسٹس انکل ہماری فریاد سنو. اس دوران نزدورو کی بڑی تعداد بھی احتجاجی کیمپ میں موجود رہی. میڈیا سے گفت گو کرتے ہوئے جنرل سیکریٹری ورکرز یونین سی بی اے حسین بادشاہ نے کہا کہ چینی کمپنی ہونینگ فویون پورٹ اینڈ شپنگ پرائیویٹ لمیٹڈ نے ان کی 4 ماہ کی تنخواہیں روکی ہوئی ہیں. انہوں نے مطالبہ کیا کہ پورٹ قاسم اتھارٹی ڈاک ورکرز کے رکے ہوئے کارڈز فوری جاری کرے اور پورٹ قاسم میں ڈاک ورکرز ایکٹ 1974 پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے. حسین بادشاہ نے کہا کہ ڈاک ورکرز کا معاشی قتل عام بند کیا جائے.