کوئٹہ،ہزار گنجی نیشنل پارک میں مارخوروں کی تعداد میں اضافہ،تعداد 1300 کے قریب پہنچ گئی
کوئٹہ سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر کوہ چلتن کے دامن میں ایک ایسا وسیع و عریض علاقہ ہے جسے ’’ہزار گنجی‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے،1980ء میں ہزار گنجی کو نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا تھا،1555 ایکڑ پر محیط ہزار گنجی نیشنل پارک کو کالا اور پیلا کوبر اور دوسرے سانپ، بھیڑیے، لومڑیاں، گیدڑ، جنگلی بلیاں، بندر سے مشابہہ ایک جانور افغان کچھوے اور چکور اور دیگر بے شمار جانوروں اور پرندوں کا مسکن سمجھا جاتا ہے۔
کو ئٹہ کے پر وفضا مقام ہز ارگنجی بلند بالا پہاڑوں اور سر سبز درختوں کی وجہ سے بے حد مشہور ہے ،،نہ صرف سیاحت کے لیے دور دور لو گ یہاں آتے ہیں بلکہ یہاں ددرجنوں اقسام کے جڑی بوٹی اور پائی جا تی ہے،1970میں اس پار ک کے پہاڑوں میں شکار کے باعث دو سو کے قریب مارخور رہ گئے تھے مارخوروں کے تحفظ کے لیے ہزار گنجی چلتن پارک کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے بعد اب ان اعلی نسل کے مارخوروں کی تعداد میں روز برروز اضا فہ ہو رہا ہے۔
مقامی زرائع کے مطابق مارخوروں کی تعداد 1300 تک تعداد پہنچ چکی ہےتاہم خشک سالی کے باعث ان جانوروں کے لیے خوراک کا بند وبست نہ ہو نے کی وجہ سے مارخوروں کی نسل کو شدید خطرہ لائق ہے ،،اس کے علا وہ دیگر جنگلی جانور لو مڑی ،خرگوش ،چکور ،وغیر میں اس پارک میں بڑی تعداد میں پا ئی جا تی ہے ،،ان جانوروں کے حفاظت کر نے والے فاریسٹ گارڈ ز کے پاس نہ ہی وردی اور نہ ہی انہیں سہولیات مسیر ہے بلکہ کنٹریکٹ پر چھ ہزار میں کام کر نے پر مجبور ہے۔
ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے رینجرز وائلڈ لائف ہزار گنجی کے اہلکار طارق شاہوانی کا کہنا تھا کہ یہاں پانی کے بڑے بڑے تالاب بنے ہوئے جبکہ ٹرکٹر کی مدد سے بھی یہاں پانی فرہم کرتے ہیں۔
طارق شاہوانی کا کہنا تھا کہ نیشنل پارک میں مارخوروں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
وائلڈ لائف اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ ہماری تنخواہیں اور سہولیات بہت کم ہیں حکومت اس سلسلے میں اقدامات کرے۔