اسلام آباد، وزیر اعظم نے چین میں پاکستان کے کپڑے دھوئے، سینیٹر مشاہد اللہ خان
پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مشاہد اللہ خان کا کہنا ہے کہ کہا جارہا ہے کہ تین دن کے دھرنوں سے ایک سو پچاس ارب روپے کا نقصان ہوگیا لیکن اس نقصان کو 126 دن کے دھرنے سے ضرب کیوں نہیں دیا جاتا، اس وقت کیوں خیال نہیں تھا کہ ملک وقوم کا نقصان ہوگا، بیروزگاری میں اضافہ ہوگیا لیکن پورے ملک کا ستیاناس کردیا گیا۔ معیشت تباہ وبرباد کردی گئی۔
سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد اللہ خان کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم چین میں جاکر پاکستان کے کپڑے دھورہے تھے، ہمیں بہت تکلیف ہورہی تھی، آج تک اس صدر، وزیر اعظم یا ڈکٹیٹر کا نام ہی بتادیں کہ جس نے پاکستان کی تاریخ میں بھی یہ کہا ہو کہ ہمارے ملک میں کرپٹ لوگ ہیں، کرپشن اور منی لانڈرنگ ہے لہٰذا مجھے کچھ پیسے دیدیں۔
مشاہد اللہ خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکمراں جماعت کے وعدے کہاں گئے، وعدہ کیا گیا تھا کہ وزیر اعظم ہر ہفتے پارلیمنٹ میں آکر جواب دیں گے لیکن وہ ایک مرتبہ بھی نہیں آئے، اس سطح پر اس قسم کا یوٹرن نہیں لیا جانا چاہیے، وعدہ کیا گیا کہ وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنادیا جائے گا، گورنر ہاؤس گورنر استعمال نہیں کریں گے، وزیرا علیٰ ہاؤس وزیرا علیٰ کے استعمال میں نہیں ہوگا ایوان صدر کو استعمال میں نہیں لایا جائے گا کہاں گئے وہ وعدے ، دنیا پیسے دیتے وقت ایسی چیزوں کو دیکھتی ہے کہ یہ بات کے پکے ہیں یا نہیں ہیں۔ یہ اپنی بات پر کھرے اتریں گے یا نہیں اتریں گے۔
انہوں نے کہا کہ احتساب ضرور کیا جائے لیکن سلیکٹو احتساب نہ کریں، این آئی سی ایل کے سارے لوگ کیا پی ٹی آئی میں ہیں یا نہیں ہیں، اربوں روپے کا مال کھاکر پی ٹی آئی میں بیٹھے ہیں۔ پانامہ کے 456 افراد کے خلاف کیا اقدامات اٹھائے گئے، اب تو سوال ہم نے کرنے ہیں جواب آپ نے دینے ہیں۔ آپ حکومت میں ہیں کوئی حق نہیں ہے سوال کرنے کاآپ کو، اب جنون نہیں چلے گا۔