لاہور: ہمارے خلاف لوگوں کو وعدہ معاف گواہ بننے پر مجبور کیا جاتا ہے، سعد رفیق
لاہور ہائی کورٹ میں پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سابق وزیرریلوے کا کہنا تھا کہ ڈی جی نیب فریق بن چکے ہیں اور ان کا ٹارگٹ (ن) لیگ ہے، وہ ٹی وی انٹرویو دے کر جھوٹ بول کر حقائق کو تروڑ مروڑ کر پیش کررہے ہیں، موصوف عرصے سے ہمارے خلاف انتقامی کارروائی کر رہے ہیں۔سعد رفیق کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اور ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہورہا، ہمیں جبرا ایک ہاوسنگ اسکیم کا مالک بنایا جا رہا ہے، میں سپریم کورٹ میں بیان حلفی دیا کہ پیراگون سے کوئی تعلق نہیں لیکن یہ کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح ہمارے خلاف کوئی چیز ان کے ہاتھ آئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے خلاف لوگوں کو وعدہ معاف گواہ بننے پر مجبورکیا جاتا ہے اور اگر نہ بنے تو وارنٹ جاری کر دیے جاتے ہیں۔
سعد رفیق کا کہنا تھا کہ جو لوگ آج قانون سے کھیل رہے ہیں کل وہ قانون کی گرفت میں آئے تو پتہ چل جائے گا، جب منتخب لوگوں کی تذلیل کی جائے گی اور جوتے مارے جائیں گے تو پھر نظام کیسا چلے گا، ایک دوسرے کے گریبان پھاڑنا اور چور چور کہنا حکومتوں کا رویہ نہیں ہوتا، ہرعمل کا ایک ردعمل ہے اور اب پرانے وقتوں کی سیاست نہیں چلے گی۔
یاد رہے لاہور ہائیکورٹ نے خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کی حفاظتی ضمانت میں 26 نومبر تک توسیع کر دی۔ خواجہ برادران کی حفاظتی ضمانت کی مدت آج ختم ہوگئی تھی