اسلام آباد، سینئر صحافی نصر اللہ چوہدری کو گرفتار کرنے کے خلاف ملک بھر میں یوم سیاہ منایا گیا
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کی کال پر ملک بھر میں چالیس ہزار صحافی کراچی پریس کلب کی بے حرمتی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے جبکہ سینئر صحافی نصر اللہ چوہدری کی گرفتاری کے خلاف ملک بھر میں یوم سیاہ منایا گیا۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر صحافیوں نے کراچی پریس کلب کی بے حرمتی اور سینئر صحافی نصر اللہ چوہدری کو گرفتار کئے جانے کے واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین صحافیوں نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جبکہ مظاہرین صحافیوں کی جانب سے نعرے بازی کا سلسلہ بھی مسلسل جاری رہا۔
مظاہرے میں شریک سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا واقعہ ہوا ہے کہ پریس کلب میں پولیس کے اہلکار داخل ہوئے ہیں اور تلاشی کی کوشش کی ہے، یہ بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی پریس کلب کو آئینی طور پر تحفظ حاصل ہوتا ہے، جس طرح سپریم کورٹ، جی ایچ کیو سمیت دیگر باقی اداروں کو تحفظ حاصل ہے، یہاں تک کے پوچھ کر بھی اندر جانے کی اجازت نہیں ہوتی، یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے ، یہ تو کسی آمر کے دور میں بھی نہیں ہوا ہوگا، یہ جمہوری حکومت میں ہوا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی جو اپنے آپ کو قانون اور آئین کی علمبردار کہتی ہے اس کی حکومت میں ایسا واقعہ ہمارے لئے ناقابل برداشت تھا،واقعے کے خلاف پورے پاکستان کے چالیس ہزار سے زیادہ صحافی سراپا احتجاج ہیں اور یہ محض علامتی احتجاج تھا، انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن لوگوں نے ایسا کام کیا ہے یا جس نے ایسا حکم دیا ہے ان کے خلاف تحقیقات عمل میں لاکر کارروائی کی جائے۔
پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ کا کہنا تھا کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے تحت آج ملک بھر میں یوم سیاہ منایا جارہا ہے۔ چند روز قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چند لوگ آگاہ کئے بغیر کراچی پریس کلب میں داخل ہوئے اور پورے کلب کو یرغمال بنائے رکھا اور سینئر صحافی نصر اللہ چوہدری کو گرفتار کرلیا۔ آج کا احتجاج کراچی پریس کلب کی بے حرمتی اور ہمارے ساتھی نصر اللہ چوہدری کی گرفتاری کے خلاف تھا۔