Nov 14, 2018 09:03 pm
views : 455
Location : Sindh Assembly
Karachi- CM Sindh Murad Ali Shah Adresess.
کراچی،رواں سال ٹارگٹ کلنگ میں واضح کمی آئی ہے،مزید کام کرنے کی ضرورت ہے،وزیر اعلیٰ سندھ
وزیر
اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے صوبہ سندھ نے دہشت گردی کے بہت زیادہ
واقعات دیکھے ہیں، جن میں سہون شریف کا دھماکہ، صفورہ کا واقعہ، امجد صابری
، خالد محمود سومرو اور ولی بابر کے قتل شامل ہیں، لیکن کوئی ایک واقعہ
بھی ایسا نہیں ہے جو حکومت نے حل نہ کیا ہو،دوسری طرف خیبر پختونخوا میں
آرمی پبلک اسکول اور جیل بریک واقعات کے ذمہ داروں کا ابھی تک پتا نہیں چل
سکا ہے۔
سندھ اسمبلی میں اظہا رخیال کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا
کہ کا کہنا تھا 2013 میں دہشت گردی کے 61 واقعات ہوئے تھے ، جبکہ پچھلے
سال 2017 میں صرف دو واقعات ہوئے، اور اس سال کوئی دہشت گردی کا واقعہ صوبہ
سندھ میں وقوع پذیر نہیں ہوا،مراد علی شاہ نے کہا 2013 میں ٹارگٹ کلنگ کے
509 واقعات ہوئے تھے، جبکہ پچھلے سال 23 ٹارگٹ کلنگ ہوئیں تھیں اور اس سال
اب تک صرف 5 ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہوئے ہیں۔
اسٹریٹ کرائم کے حوالے وزیر
اعلیٰ نے کہا کہ جرائم کم ہوئے ہیں لیکن اس حوالے سے مزید کام کرنا ہوگا،
انشااللہ صورتحال اور بہتر کرینگے،انہوں نے کہا جب دہشت گردی عروج پر تھی
تو اسٹریٹ کرائم کا کہیں ذکر بھی نہیں تھا، سال 2008 سے 2016 تک کسی نے بھی
اس حوالے سے ایوان میں کوئی بات نہیں کی۔
مراد علی شاہ کا مزید کہناتھا
کہ جب ڈوریں کہیں اور سے کھینچنا بند ہوگئیں تو اپوزیشن نےتعاون کیا،
اپوزیشن ارکان کی تجاویز کابینہ میں زیرغور لائینگے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ
نے کہا کہ سندھ صوفیوں کی دھرتی کہلاتی ہے، میرے آباء واجداد عرب سے
آئے، کچھ بلوچ دوست یہاں آئے اور سندھی بن گئے، پاکستان بننے کے بعد
بھارت سے آئے لوگ اس صوبے کے شہری بن گئے، یہ مہمان نواز صوبہ ہے۔