اسلام آباد، ہمیں اندھیرے میں رکھا جارہا ہے، سینیٹر شیری رحمن
پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی سینیٹر شیری رحمن کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی ٹیم پاکستان آئی ہوئی ہے، نیپرا، ریگولیٹری باڈیز اور اداروں میں جارہی ہے ،آئی ایم ایف کے کہنے پر 160 ارب روپے کے ٹیکسز لگائے جارہے ہیں لیکن اس ضمن میں سینیٹ یا قومی اسمبلی میں بات نہیں ہورہی۔ سوال کرنا ہمارا حق ہے۔
سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے شیری رحمن کا مزید کہنا تھا کہ پوائنٹ آف سیریس آرڈر کو ایجنڈے میں شامل نہیں کیا جارہا، ہمیں کوئی بھی تحریری آگاہی فراہم نہیں کی جارہی۔ یہ طفل تسلی دی جارہی ہے کہ آئی ایم ایف سے ابھی ٹرمز طے نہیں ہوئیں۔ یہ کوئی مناسب عذر نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں بڑے بڑے فیصلے ہورہے ہیں جس کا امریکا بھی مطالعہ کررہا ہے اور چین بھی سوال اٹھائے گا، ہر قسم کے معاملات ہورہے ہیں لیکن ہمیں کسی بھی قسم کی آگاہی فراہم نہیں کی جارہی جبکہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کا سوال کرنا حق ہے۔
شیری رحمن کا کہنا تھا کہ پارلیمان میں معاملات کو لانے سے سیر حاصل حل نکلے گا، روپے کی بے قدری ہورہی ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 34 فیصد پر پہنچ گیا ہے۔