برطانوی دور کی تعمیر شدہ ایمپریس مارکیٹ کی عمارت سے دھول اور مٹی کی
صفائی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ وکٹوریہ دور میں تعمیر ہونے والی عمارت کی
حقیقی خوبصورتی نمایاں ہونے لگی۔ ایمپریس مارکیٹ کا اصل رنگ بھی سامنے آنا
شروع ہوگیا ہے۔
اس شاہکار کو دیکھنے کیلئے اب لوگ دور دور سے آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں پر ٹریفک کی روانی بھی اب متاثر نہیں ہورہی۔
عمارت پر کام کرنے والے ایک مزدور محمد ہمایوں کا کہنا تھا کہ ایمپریس
مارکیٹ کو ہم اس کی اصل حالت میں بحال کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور الحمدو
اللہ عمارت کا اصل رنگ بھی سامنے آنا شروع ہوگیا ہے۔
ایک شہری وقاص باقر کا کہنا تھا کہ الحمدو اللہ بہت اچھا کام ہورہا ہے، یہ
عمارت نہ صرف کراچی بلکہ پاکستان کی پہچان تھی جو چھپ گئی تھیں۔ میں بچپن
سے یہاں آرہا ہوں اور ایک وقت تو صدر آنے کا گمان بھی ذہن میں آتا تھا تو
کوفت ہونا شروع ہوجاتی تھی لیکن آج کے دور میں جو یہ تبدیلی نظر آرہی ہے
انشاء اللہ آگے چل کر بھی یہ نظر آنی چاہیے جو کہ ہمارے ملک کیلئے بہت
ضروری ہے کیونکہ ہم بہت سی چیزوں میں ابھی بھی بہت پیچھے ہیں ، یہ کام بہت
پہلے ہوجانا چاہیے تھا۔یہاں ہر وقت ٹریفک کا اژدھام لگا رہتا تھا۔تاریخ میں
جائیں تو یہاں پر پارکنگ ہوا کرتی تھی، بگی گھوڑا گاڑی کا دور تھا لیکن
چائنا کٹنگ نے تمام چیزیں کراچی کی ختم کردیں تاہم ہمیں انشاء اللہ مستقبل
میں کچھ بہتر ہونے کی امید ضرور ہے۔ فرانس اور دیگر ممالک کی طرح یہاں پر
بھی سفری سہولت کیلئے ریل گاڑی چلائے جانے کی آس ہے۔