کوالالمپور،پاکستان اور ملائیشیا میں 20 سال بعد سربراہی اجلاس کی سطح پر مذاکرات ہوئے، وزیر خارجہ
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہےکہ پاکستان اور ملائیشیا کے مفادات میں یکسانیت ہے ، معیشت کے مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے پر اتفاق کیا گیا، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے ملکی معیشت پر بوجھ سے متعلق تاثر درست نہیں ہے کیونکہ ملکی مجموعی قرضے پر سی پیک کا حصہ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔
ملائیشیا کے دورے کے دوران ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہاکہ پاکستان اور ملائیشیا میں 20 سال بعد سربراہی اجلاس کی سطح پر مذاکرات ہوئے، پاکستان اور ملائیشیا کے مفادات میں یکسانیت ہے ،ملائیشیا میں مقیم پاکستانی ہر سال ایک ارب ڈالر بھیجتے ہیں۔
وفاقی وزیر خارجہ نےمزید کہا کہ اب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات بنائے جا رہے ہیں جب کہ ہم نے ملائیشیا کو زراعت کے شعبے میں مدد کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور دونوں ممالک کے وفود کے درمیان ہونے والے مذاکرات کامیاب رہے ہیں۔