خواجہ سراؤں نے تشدد کے خلاف کراچی پریس کلب کے باہر زبردست احتجاجی مظاہرہ
کیا۔ مظاہرے میں سینکڑوں خواجہ سراؤں نے شرکت کی۔ احتجاجی مظاہرین نے اپنے
ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جبکہ مظاہرین کی جانب سے
نعرے بازی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ خواجہ سرا برادری پر ہونے والے تشدد کو فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے۔
مظاہرے کی قیادت کرنے والی ٹرانس جینڈر ایسوسی ایشن کی صدر بندیا رانی کا
کہنا تھا کہ فیروز آباد تھانے کے اہلکاروں نے پچیس خواجہ سراؤں کو حراست
میں لے لیا اور جب ہمیں پتہ چلا تو ہم وہاں پہنچے لیکن ہمیں کہا گیا کہ
انہوں نے ہمارے ساتھیوں کو ایدھی سینٹر بھجوادیا ہے۔ پولیس کو ہمیں تحفظ
فراہم کرنا چاہیے لیکن وہ تو ہمیں بالوں سے پکڑ پکڑ کر گرفتار کرلیتی ہے۔
آخر ہمارا قصور کیا ہے۔ ہم لوگ ناچ گانا نہیں کریں تو پھر کیا کریں۔ حکومت
ہمیں کیوں برائی کی طرف دھکیل رہی ہے۔
انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ انصاف فراہم کرتے ہوئے ہمارے لوگوں کی داد رسی کریں۔