اکیسویں
صدی کی جدیدیت ، موبائل فونز،کمپیوٹر ،ٹییبلیٹس اور جدیدترین ٹیکنالوجی نے
جہاں ایک طرف نئی نسل کو ہاتھ میں پہننے والی اور دیواروں پر آویزاں کی
جانے والی گھڑیاں دیکھنے سے محروم کردیا ہے وہیں بزرگ اور جدید آلات سے
محروم غریب عوام اب بھی ہاتھ والی گھڑی کے ساتھ نئے یا پرانے انداز کی
گھڑیوں اورگھڑیال سینے سے لگائے روایات کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
کراچی
کے علاقے صدر میں قائم گھڑیال مارکیٹ میں ہرقسم کی گھڑیوں کی درجنوں
مارکیٹ دکانیں موجود ہیں جہاں پر نہ صرف جدید دور کے تقاضوں کے مطابق نت
نئے ڈیزائنز اور ماڈلز کی گھڑیاں اورگھڑیال دستیاب ہیں بلکہ روایات کو زندہ
رکھنے والے بزرگوں کے ذوق و شوق کے مدنظر قدیم یاسادہ نظر آنے والی گھڑیاں
اورگھڑیال بھی موجود ہیں
گھڑیال
خریدنے کیلئے آنے والے ایک شہری نے بتایاکہ مہنگائی کے اس دور میں
دیگرتمام اشیاکے ساتھ ساتھ گھڑیاں اورگھڑیال بھی بہت مہنگے ہوگئے ہیں اور
پہلے جو چیز سستی یاانتہائی کم نرخوں پر مل جاتی تھی آ ج وہی چیز ہزاروں
روپے کی ہوگئی ہے۔ان کاکہنا تھا کہ ٹائم دیکھنے کیلئے گھر میں گھڑیال ضروری
ہے جس کے باعث وہ اسے خریدنے پرمجبورہیں۔انہوںنے کہاکہ نئی حکومت میں تو
سب لوگ ہی برباد ہوگئے ہیںملک میں کیا تبدیلی آنی تھی کہ عوام کیلئے
مہنگائی کی تبدیلی آئی ہے۔انہوںنے وزیراعظم عمران خان سے اپیل کہ وہ غریبوں
کیلئے مہنگائی کم کرنے کے اقدامات کو یقینی بنائیں ۔
ایک
دکاندار نے بتایاکہ جدیدیت کے بعداب گھڑیاںاور گھڑیال نہ صرف مختلف
اندازواسٹائلزکے آرہے ہیں بلکہ اب مختلف ہلکے اوربھاری میٹریل کی بنی ہوئی
اشیا بھی مارکیٹ میں آچکی ہیں جن میں سستی اشیا بھی ہیں اور مہنگی اشیا بھی
ہیں۔