کراچی، بھارت نے پاکستان کے خلاف آبی دہشت گردی کا محاذ کھول دیا
پلوامہ حملے کے بعد پاک بھارت کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی جہاں بھارت نے پاکستان کے خلاف آبی دہشت گردی کا محاذ کھول دیا۔
بھارت نے پاکستان کو اضافی پانی کی فراہمی روک کرپاکستان کے خلاف آبی دہشت
گردی کا محاذ کھول دیا۔ بھارت نے مشرقی دریاؤں دریائے ستلج، بیاس اورراوی سے اب تک
پانچ لاکھ تیس ہزار ایکڑ فٹ پانی پاکستان جانے سے روک دیا ہے۔
اس حوالے سے معروف تجزیہ نگار آغا مسعود کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے آبی جارحیت ہو
یا ایل او سی پر فائرنگ کرکے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنایاجانا ، بھارت
بنیادی طور پر جنگ چاہتا ہے لیکن پاکستان جنگ کا خواہاں نہیں ، امن کی
پیشکش سے مراد یہ نہیں ہونی چاہیے کہ پاکستان کمزور ہے۔ ہندوستان پاکستان
کا پانی کبھی بھی بند نہیں کرسکتا۔ یہ خام خیالی ہے ،ہمارے معاشرے میں کوئی
جدید سوچ نہیں ہے۔ لوگ ڈر جاتے ہیں۔ کوئی آبی جارحیت نہیں،پانی کا بہاؤ تو
قدرتی نظام ہے۔
آغا مسعود کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت آبی جارحیت کا محاذ کھول کر خوف
پیدا کرنا چاہتا ہے۔ بھارت ایڑی چوٹی کا زور بھی لگالے تب بھی پاکستان کے
حصے کا پانی روک ہی نہیں سکتا ،فی الوقت پاکستان کو پانی کی ضرورت نہیں ہے۔
آغا مسعود کا یہ بھی کہنا تھا کہ 1962ء میں ورلڈ بینک نے سندھ طاس معاہدہ
کرایا تھا جس کے نتیجے میں مغربی دریا پاکستان اور مشرقی دریا ہندوستان کے
حصے میں آئے تھے۔ اب ایک مرتبہ پھر پاکستان کو عالمی بینک سے رجوع کرنا
چاہیے کیونکہ ورلڈ بینک کے منصفانہ فیصلے کو بھارت زچ پہنچارہا ہے اور
پاکستان کا پانی چوری کررہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں آغا مسعود نے بتایا کہ ہندوستان میں نہ مانو کی کیفیت
میں ہے۔ پاکستان نے جو پائلٹ کو چھوڑا ہے وہ بہت اچھی بات ہے۔ پاکستان کو
امید تھی کہ سیز فائر ہوجائے گی اور بھارت مذاکرات کی میز پر بیٹھے گا،
ہندوستان کی سیاسی قیادت مکار ہے۔ نریندر مودی 2001 میں گجرات میں مسلمانوں
کے خون سے ہولی کھیل چکا ہے۔ نریندر مودی 1992ء بابری مسجد کو شہید کرنے
میں شامل تھا۔ نریندر مودی آر ایس ایس کا بنیادی طور پر رکن رہا ہے، وہ 7
برس کی عمر میں چائے بیچتا تھا۔ اس کے ڈی این اے میں منفی خیالات پائے گئے
ہیں۔