لاہور،پنجاب کی عوام نے ارکان صوبائی اسمبلیوں کی تنخواہوں میں اضافے کے بل کو فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کردیا
پنجاب بھر کے لوگوں نے ارکان پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں
اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ غریب آدمی کے پاس
کھانے کی دو وقت کی روٹی تک نہیں ہے ان حالات میں تنخواہوں میں اضافہ
کردینا غریب دشمنی پر مبنی ہے۔ تنخواہوں میں اضافے کے بل کو فی الفور واپس
لے کر عوام سے معافی مانگی جائے۔
اس حوالے سے عوام کا کہنا تھا کہ ارکان پنجاب اسمبلی کی تنخواہیں دگنی کردی
گئی ہیں جبکہ اسمبلی کے اندر سرمایہ دار اور جاگیردار طبقہ بیٹھا ہوا ہے
اس کے مقابلے میں کلرک کی بیس سے پچیس ہزار روپے تنخواہ ہے اس مہنگائی کے
دور میں غریب آدمی اپنا گھر نہیں چلا پاتا، متوسط طبقے اور غریب آبادی کے
حالات کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
عوام کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی نے جو بل پاس کیا ہے اس کی پرزور
مذمت کرتے ہیں، اس اقدام سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت اور ارکان پنجاب اسمبلی
کو عوام کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ پنجاب اسمبلی کے تمام ارکان اسمبلی،
اسپیکر اور حکومت یا اپوزیشن انہوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ان کا غریب
عوام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسمبلیوں میں بیٹھنے والوں کے مسائل عوام
سے یکسر مختلف ہیں، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فی الفور بل کو واپس لیا جائے
اور غریب عوام سے معافی مانگی جائے۔