اسلام آباد، نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہونے والے مسلمانوں کی غائبانہ نماز جنازہ ادا
اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے احاطے میں نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں فائرنگ
کے نتیجے میں شہید ہونے والے مسلمانوں کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔
غائبانہ نماز جنازہ میں وکلاء برادری کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ بعد ازاں
مسلمانوں کی سلامتی کیلئے اور شہداء کے لواحقین کو صبر جمیل کیلئے دعائیں
کی گئیں۔
اس موقع پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جوائنٹ سیکریٹری آصف نسیم عباسی
ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ نیوزی میں مسلمانوں کو شہید کئے جانے کی شدید مذمت
کرتے ہیں، دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، جہاں بھی دہشت گردی ہوتی ہے
الزام مسلمانوں پر لگادیا جاتا ہے، مسلمانوں کا تو پرامن مذہب ہے، اس
بدترین دہشت گردی پر پوری دنیا میں سب خاموش ہیں، اس کو دہشت گردی کی بجائے
شوٹنگ کا نام دیا جارہا ہے، جو کہ انتہائی شرمناک ہے، انسان اپنا فرض ادا
کرنے کیلئے مسجد جاتا ہے اس پر فائرنگ کرکے شہید کیا جاتا ہے ، مسلمانوں کے
خلاف شروع سے ہی پوری دنیا ہی متحد رہی ہے، مسلم ممالک کو بھی چاہیے کہ وہ
اس دہشت گردی کے خلاف یکجا ہوجائیں اور بتائیں کہ مسلمان دہشت گرد نہیں ہے
۔
جاوید سلیم سورش ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز نیوزی میں مساجد میں
دہشت گردی کے نتیجے میں 50 مسلمان شہید ہوگئے ہیں، یہ دہشت گردی کی بدترین
مثال ہے، بعض یورپی ممالک کا موقف ہے یہ شوٹر ہے بلکہ یہ دہشت گردی ہے۔
مغربی دنیا کو اس کی پر زور مذمت کرنی چاہیے اور ایسے سانحات کی روک تھام
کرنی چاہیے۔ مذہبی عبادتگاہوں کو تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے، مغرب کے یہ
پیمانے ہیں کہ مسلم سوسائٹی کے ساتھ ظلم ہوتا ہے تو کہتے ہیں یہ جارحیت ہے
لیکن مسلمان ملک میں ہوتا ہے تو دہشت گردی قرار دیدیا جاتا ہے، یہ دوہرا
معیار نہیں چلے گا۔