لاہور، نیوزی لینڈ حکومت او آئی سی کو اعتماد میں لے، تنظیم اتحاد امت پاکستان
تنظیم اتحاد امت پاکستان کے رہنماؤں نے نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں ہونے
والی دہشت گردی کے نتیجے میں 49 مسلمانوں کی شہادت کے واقعے کی شدید ترین
الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف نہتے پرامن مسلمانوں پر حملہ
نہیں ہے بلکہ نیوزی لینڈ میں رہنے والی نو فیصد آبادی اور سوا ارب مسلمانوں
پر ہوا ہے۔
لاہور پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے
تنظیم اتحاد امت پاکستان کے رہنماؤں کا مزید کہنا تھا کہ مسلمانوں کا
پرانا
مطالبہ تھا کہ دہشت گردی ایک ناسور ہے ،یہ ناسور کسی بھی جگہ پر پیدا
ہوسکتا ہے اس لئے اگر کوئی مسلمان کرتا ہے تو وہ بھی ذہنی مریض اور اگر
کوئی غیر مسلم کرتا ہے تو وہ بھی ذہنی مریض ہے۔ اب اس واقعہ کے بعد نیوزی
لینڈ کی حکومت پر یہ فرض عائد ہوتا ہے اخلاقی اور قانونی طور پر وہ اس کی
تہہ میں چھپے ہوئے ذہنوں کو تلاش کرے اور او آئی سی اور پوری دنیا کے
اسلامی ممالک کو اس حوالے سے اعتماد میں لے۔
رہنماؤں کا یہ بھی کہنا تھا کہ دہشت گرد نے اپنے دہشت گردی کو دیدہ دلیری
کے ساتھ لائیو فیس بک پر چلایا ، ہم پوچھتے ہیں کہ فیس بک انتظامیہ اس وقت
کیا تھی، فیس بک نے اپنی وضاحت سے مطمئن نہ کیا تو امت مسلمہ یہ سمجھے گی
کہ شاید فیس بک کی انتظامیہ بھی اس عمل میں شریک ہے۔