کراچی، بحریہ ٹاؤن کراچی کے منصوبے کو کالعدم قرار دیا جائے ، کراچی انڈیجینئس رائٹس الائنس
کراچی انڈیجینئس رائٹس الائنس کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ بحریہ
ٹاؤن کراچی کے ناجائز اور غیر قانونی منصوبے کے لئے جن زمینوں پر قبضہ کیا
گیا ہے ان میں بورڈ آف ریونیو اور ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے علاوہ عام
لوگوں کی زمینیں بھی شامل ہیں جو بدنام زمانہ ایس ایس پی راؤ انوار کے
ذریعے بندوق کی نوک پر ان سے زبردستی لی گئیں۔ یہ زمینیں ان خاندان کے
روزگار کا واحد ذریعہ تھیں جن پر وہ فصل بھی اگاتے تھے اور مال مویشی بھی
پالتے تھے۔
کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان رہنماؤں کا مزید
کہنا تھا کہ چار مئی کے فیصلے میں صاف صاف کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ قبضہ
گیری ہے اور ریونیو بورڈ اور ایم ڈی اے اس سازش میں شریک ہیں۔ تفصیلی فیصلے
کے آخر میں واضح کہا گیا ہے کہ اس منصوبے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اس
لئے زمین واپس کی جائے اور اگر بحریہ ٹاؤن چاہے تو نئے سرے سے قواعد
وضوباط کے مطابق ریونیو بورڈ سے الاٹمنٹ حاصل کرے۔
کراچی انڈیجینئس رائٹس الائنس کے رہنماؤں نے سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ 4
مئی 2018ء کے فیصلے کے مطابق بحریہ ٹاؤن کراچی کے منصوبے کو کالعدم قرار
دیا جائے اور زمینیں اصلی مالکان کو واپس کی جائیں۔