اسلام آباد، پاکستان
اور ملائیشیا کی جانب سے مختلف شعبوں میں تعاون پر اتفاق
پاکستان
اور ملائیشیا کی جانب سے مختلف شعبوں میں تعاون پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس
حوالے سے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور ملائیشین وزیر اعظم کی جانب سے
مشترکہ پریس کانفرنس کی گئی۔
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ
کرپشن انسانی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ مہاتیر محمد نے کہا
بدعنوانی کے خاتمے کیلئے تعاون کیلئے تیار ہیں۔ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد کے دورے پر بہت خوشی ہے،
ملائیشیا کے ساتھ ہمیشہ خوشگوار تعلقات رہے، ملائیشیا ہمیشہ مسلم ممالک
کیلئے رول ماڈل رہا، ڈاکٹر مہاتیر محمد کو مسلمانوں کے قائد کی حیثیت سے
دیکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا اسلام فوبیا نے مسلم امہ کو نقصان پہنچایا،
اسلامو فوبیا کے نتیجے میں مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد کو نقصان پہنچا، نیوزی
لینڈ میں دہشتگرد نے معصوموں کی ہلاکتوں پر ویڈیو بنائی، سفاک قاتل کو
اپنے فعل پر ذرا بھی شرمندگی نہیں تھی۔
وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا ملائشیاء کے وزیراعظم سے بہت سے معاملات
پر بات چیت ہوئی، حکومت میں آنے کے بعد سرمایہ کاری پر فوکس ہے، مہاتیر
محمد نے قائدانہ صلاحتیوں سے ملائیشیا کو مشکلات سے نکالا، سیاحتی فروغ پر
بھی ڈاکٹر مہاتیر محمد سے بات چیت ہوئی۔
اس موقع پر ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کا کہنا تھا پاکستان میں
پرتپاک استقبال کیا گیا، دونوں ممالک کے خوشگوار تعلقات کے معیشت پر مثبت
اثرات ہوں گے، دونوں اطراف سے تاجر سرمایہ کیلئے راستہ تلاش کریں گے، کرپشن
کے اثرات ہمیشہ بہت تباہ کن ہوتے ہیں، بدعنوانی کاخاتمہ انتہائی اہم ہے،
اس وقت ایک بھی مسلم ملک ترقی یافتہ نہیں، دوسرے مسلم ممالک کو بھی اپنی
ترقی پر توجہ دینی ہوگی۔
انہوں نے کہا نیوزی لینڈمیں 9 پاکستانی اور
ملائیشیا کے 3 شہری شہید ہوئے، اسلامو فوبیا سے نمٹنے کیلئے دیگر راستے
تلاش کرنے ہوں گے، لوگوں کے دماغ اور دل جیتنے ہوں گے، حملے کے جواب میں
حملہ کوئی حل نہیں، انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے کاوشیں کرنا ہوں گی۔