اسلام آباد، ہائیکورٹ کادو نومسلم لڑکیوں کو سرکاری تحویل میں دینے کا فیصلہ
اسلام آباد ہائیکورٹ نے دونوں نومسلم لڑکیوں کو سرکاری تحویل میں دینے کا فیصلہ کیاہے، جب کہ دونوں لڑکیوں کا میڈیا اور عدالت کے سامنے یہ کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے اور پسند کی شادی کی ہے۔
اس موقع پر لڑکیوں کے وکیل راؤ عبدالرحیم کا کہنا تھا کہ مسلمان ہونے والی بچیوں کا سوال ہے کہ اگر وہ شادی نہ کرتیں تو کیا کرتیں انہیں وکلا نے مشورہ دیا کہ شادی کرلیں تاکہ انہیں محرم اور اسکا تحفظ حاصل ہوسکے۔
ضلع گھوٹکی کی درگاہ بھرچونڈی شریف کے پیر میاں مٹھو کے صاحبزادے میاں اسلم نے کہا ہے کہ دونوں نومسلم لڑکیوں کو زبردستی مسلمان کرنے کا الزام ثابت ہوجائے تو قانون کے مطابق سزا بھگتنے کو تیارہیں۔
انہوں نے کہا دونوں لڑکیوں میں سے ایک کی عمر 18 سال اور دوسری کی 20 سال ہے، دونوں بالغ ہیں اور اپنا فیصلہ خود کرسکتی ہیں، تاہم لڑکیوں کی عمر کے حوالے سے میڈیکل بورڈ صحیح بتا سکتا ہے۔ میاں اسلم نے کہا ڈیڑھ سو سال سے لوگ ہمارے پاس مسلمان ہو رہے ہیں، کچھ عرصہ قبل فریال کا مسئلہ بھی اسی طرح اٹھا لیکن آج اس کے بچے بھی ہیں۔
واضح رہے کہ گھوٹکی کی دو لڑکیوں نے ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کرکے دو مسلمان لڑکوں سے پسند کی شادی کرلی ہے۔ تاہم ان کے اہل خانہ کی جانب سے جبری مذہب کی تبدیلی کا الزام لگایا جارہا ہے۔