اسلام آباد،وزیر اعظم عمران خان نے غربت مٹاؤ پروگرام کا افتتاح کردیا
وزیراعظم عمران خان نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے غربت مٹاؤ پروگرام ’’احساس ‘‘ کا افتتاح کردیا ہے،وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ غربت کے خاتمے کا کوئی ایک فارمولا نہیں، اس کے لیے کئی اقدامات کرنے پڑتے ہیں، غربت ختم کرنا بھی جہاد ہے، ہم ملک سے غربت ختم کریں گے۔
اسلام آباد میں غربت مٹاؤ پروگرام ’’احساس‘‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا، مسلمانوں کے لیے مدینہ کی ریاست ایک ماڈل ہے، ریاست مدینہ کا اہم اصول ’رحم‘ تھا، انسانیت کی مدد کرنا اللہ کا راستہ ہے، جب اللہ کے لیے کام کرتے ہیں تو صرف کوشش کریں، مدد اللہ کرتا ہے، بدقسمتی سے ملک میں کمزور اسکالر شپ ہے، پاکستان میں 43 فیصد بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں، چین نے 30 سال کے اندر 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا۔ چین نے 30 سال پہلے جو فیصلے کیے اس کی وجہ سے آج معاشی طاقت ہے،آج ہم بھی وہی فیصلے کر رہے ہیں تاکہ آگے جاکر ملک معاشی طور پر مستحکم ہو۔
غربت مٹاؤ پروگرام کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں ابھی تک نہیں پتہ کہ ملک میں کتنے لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں، پورے ملک سے پسماندہ طبقے کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا، دسمبر تک تمام ڈیٹا اکٹھا کرلیا جائے گا۔ ہم پسماندہ علاقوں کے بجٹ میں80 ارب کا اضافہ کر رہے ہیں، مختلف سرکاری فلاحی ادارے الگ الگ کام کر رہے ہیں، ہم نئی وزارت قائم کر رہے ہیں جو اس پروگرام کے لیے پورے ملک میں کام کرے گی، نئی وزارت سے مل کر کام کریں گے۔
غربت مٹاؤ پروگرام کے دیگر خدو خال بتاتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ دیہی خواتین کی مدد کے لیے بکریاں اور دیسی مرغیاں دی جائیں گی، یوٹیلیٹی اسٹورز میں خصوصی بیج رکھیں گے تاکہ لوگ ان کو خرید کر گھر میں پودے لگا سکیں، ہم بیرون ملک مقیم ہمارے محنت کش لوگوں کو سہولتیں فراہم کریں گے، جو مزدور بیرون ملک جائینگے انھیں ایک سال نہیں بلکہ 3 سال کے کانٹریکٹ پر بھیجیں گے، بیرون ملک مقیم ہمارے محنت کشوں کے تعاون کے لیے ویلفیئر اتاشی تعینات کیے جائیں گے، انہیں اسپیشل ویلفیئر ٹکٹ دیں گے تاکہ وہ اپنے گھر والوں سے آکر مل سکیں۔ مزدوروں اور کسانوں کو آسان شرائط پر قرضے دینگے تاکہ وہ اپنا گھر بنا سکیں۔ احساس پروگرام کے تحت بزرگ شہریوں کے لیے گھر بنائے جائیں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہم پرانے قرضے کے سود کی مد میں 600 کروڑ روپے روزانہ کی بنیاد پر دے رہے ہیں، ہوسکتا ہے 2 سے 3 ہفتے میں تیل اور گیس کے بڑے ذخائردریافت ہوجائیں۔