کینیڈین عوام عدلیہ کے نظام پر مکمل اعتماد رکھ سکتی ہے،جسٹن ٹروڈو
وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ کینیڈین عوام انکے عدلیہ نظام پر اعتماد رکھ سکتے ہیں ۔ وزیر اعظم نے ان خیالات کا اظہار رپورٹ جاری ہونے کے بعد دیا جس میں ٹروڈو اور جوڈی ولسن رے بولڈ کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے انتخاب کیلئے نقطہ نظر میں اختلاف کی خبر سامنے آئی۔گمنام زرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق سابق اٹارنی جنرل نے مینیٹوباکے اعلیٰ ٹرائل کورٹ کے چیف جسٹس گلین جوئل کو سپریم کورٹ آف کینیڈا کا چیف جسٹس بنانے کی سفارش کی تھی جس پر وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے خدشات کا اظہار کیاجس کے بعد مینٹوبابار ایسوسی ایشن نے اعلیٰ جج کے حق میں بیان جاری کردیا۔
زرائع کے مطابق یہ سفارش ٹروڈو کے ساتھ نمایاں اختلاف کا نقطہ بن گئی جو کہ چارٹرآف رائٹس اینڈ فریڈم پر جوئل کے خیالات کے حوالے سے تشویش کا شکار ہیں۔رپورٹ میں بار ایسوسی ایشنز نے مذمت کی اور اس خدشہ کا اظہار کیا کہ عداتی انتخابات کے عمل کی رازدری سے سمجھوتہ کیا گیا ہے۔ایم بی اے نے بیان میں جویل کے دفاع میں کہا کہ یہ تجویزکرنا مکمل طور غیر مناسب اور سراسر غلط ہے کہ وہ ایسے حکم دیں گے جو کہ خواتین اوردیگر کمیونٹی کے حقوق کی بیخ کنی کر سکتے ہیں۔
جویل نے اپنے ایک ذاتی بیان میں کہا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کی ملازمت کیلئے درخواست دی تھی لیکن جسے بعد میں انہوں نے واپس لے لیاکیونکہ انکی اہلیہ کو میٹاسٹک بریسٹ کینسر تھا۔انہوں نے کہا کہ انہیں ڈر ہے کہ تقرری عمل سے غیر متعلقہ ایجنڈے کو بڑھانے کیلئے کوئی سپریم کورٹ آف کینیڈا کی انکی گزشتہ امیدواری کو استعمال کررہا ہے جو کہ غلط ہے۔ ایس سی سی کے چیف جسٹس کیلئے جویل کو غلط انتخاب قرار دینے پر ٹروڈو سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کینیڈین عوام عدلیہ نظام پر اعتماد رکھے ، جس طرح وہ حکومت میں کام کررہے ہیں ، کینیڈین جانتے ہیں کہ انکے پاس مضبوط اور خودمختار عدلیہ ہے۔ ٹروڈونے اس معاملے پر مزید بات کرنے سے انکار کردیا۔