اسلام آباد،سدا سلامت پاکستان کے زیر اہتمام قومی کانفرنس میں میثاق پاکستان کانفرنس
سدا سلامت پاکستان کے زیر اہتمام قومی کانفرنس میں پاکستان میں امن اور رواداری کے فروغ کیلئے مختلف سیاسی ،مذہبی ، سماجی حلقوں نے ’’میثاق پاکستان ‘‘ کے نام سے جاری اعلامیہ میں واضح کیا ہے کہ مذہبی اور نظریاتی آزادی ہر پاکستانی کابنیادی حق ہے جبراً نظریات مسلط کر نے کی اجازت نہیں دینگے، غیر ریاستی مسلح جھتے کسی بھی پرامن قوم اور ملک کے اثاثے نہیں ہوتے ، نیشنل ایکشن پلان کے تحت ان کے خلاف کارروائی کی حمایت کرتے ہیں ،فکری آلودگی پھیلانے والے تمام ذرائع کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں ، سوشل میڈیا پر نفرت انگیز اور حیا باختہ مواد کی اشاعت و ترویج کوروکا جائے، بھارتی افواج کے ہاتھوں بے گناہ کشمیریوں کا خون نا حق جاری ہے ، اقوام عالم اس قتل و غارت کو رکوانے میں اپنا کر دارادا کریں ، علامہ تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ قابل مذمت ہے اور پاکستان کا امن تباہ کر نے کی بہت بڑی سازش ہے قومی مذہبی شخصیات کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔
روادار پاکستان کانفرنس اعلامیہ سابق وزیر مملکت پیر امین الحسنات نے پیش کیا ۔پاکستان میں امن اور رواداری کے فروغ کیلئے مختلف سیاسی ،مذہبی ، سماجی حلقوں کی طرف سے متفقہ طورپر میثاق پاکستان کے نام سے جاری اعلامیہ میں کہاگیاکہ روادار پاکستان ہی ہماری نسلوں کے پر امن مستقبل کا ضامن ہے اس فکر کے فروغ کیلئے روحانی ،علمی ، مذہبی ، سیاسی ، سماجی تمام طبقات اپنا بھرپور کر دارادا کریں گے ۔
اسدا سلامت پاکستان فورم کے زیر اہتمام قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو اکھٹا ہونا ہوگا,انہوں نے کہاکہ اسلام سے محبت لوگ آج بھی کرتے ہیں,انہوں نے کہاکہ شام کے جنوبی حصے گولان پر اسرائیل نے قبضہ کرلیا ہے, ہر مظلوم کی حفاظت کرنا ہم پر لازم ہے ۔
تحریک انصاف کے رکن اسمبلی رمیش کمار نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں ملک کے اندر رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دینا چاہیے,انہوں نے کہاکہ ہم سب کو مذہبی تہوار ملکر منانے چاہیے،قائد اعظم کے وژن کے مطابق پاکستان کو آ گے برھانا ہوگا۔