لاہور، وکلا کردار کو درست کریں تو کوئی انگلی نہ اٹھائے، چیف جسٹس پاکستان
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے وکلا کردار کو درست کریں تو
کوئی انگلی نہ اٹھائے، 2007 سے 2009 تک عدلیہ کی آزادی کیلئے جدوجہد کی،
اچھا قانون دان بننے کیلئے تاریخ، ادب اور ریاضی پر عبور ہونا چاہیے۔
چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے لا کالج کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے
کہا کسی بھی معاشرے میں وکیل کا رتبہ مثالی حیثیت رکھتا ہے، وکیل معاشرے کی
بہتری کیلئے لڑتا ہے، وکیل انفرادی نہیں اجتماعی مفاد کا کام کرتا ہے۔
انہوں نے کہا وکیل معاشرے کے محروم طبقے کیلئے قانونی جنگ لڑتا ہے، 2007 سے
2009 تک وکلا نے عدلیہ کی آزادی کیلئے جدوجہد کی، وکلا اپنے کنڈکٹ کو درست
کریں تو کوئی ان پر انگلی نہیں اٹھا سکتا۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مزید کہا کہ میرے والد مرحوم نے تقریباً 55
سال تک وکالت کی، والد مرحوم سائیکل پر عدالت جاتے تھے، ہر کوئی انکی عزت
کرتا تھا۔ انہوں نے کہا وکالت آج بھی پاکستانی معاشرے کا ایک معزز پیشہ ہے،
ہر قانون تاریخ کے کسی نہ کسی واقعے کی مناسبت سے بنتا ہے، وکیل کیلئے
اپنے کیس کی تمام باریکیوں کا احاطہ کرنا اشد ضروری ہے۔