Apr 03, 2019 05:05 pm
views : 451
Location : Domestic Place
Islamabad- FO Dr Faisal expresses deep concern over India's satellite destruction.
اسلام آباد،پاکستان کا بھارت کی جانب سےخلا میں تجربے پرشدید تشویش کا اظہار
حال ہی میں بھارت نے خلا کے زیریں مدار میں گردش کرنے والے ایک سیٹلائٹ کوزمینی میزائل سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا جس کے بعد ماہرین نے اس پر تنقید کی ہے اور اب امریکی خلائی ادارے، نیشنل ایئروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) کے سربراہ نے اسے مدار میں موجود بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دے دیا۔
پاکستان نے بھارت کی جانب سے خلاء میں کیے جانے والے تجربے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اسلام آباد سے جاری ہونے والے بیان میں دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارت کی جانب سے بیرونی خلاء میں سیارچوں کے خلاف ہتھیاروں کے استعمال کے تجربے کے معاملے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ماہرین نے بھارتی تجربے سے خلاء میں بکھرے ملبے کو شدید خطرہ قرار دیا ہے۔
ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ بھارت کا خلاء میں ہتھیاروں کا استعمال انتہائی تشویش کا باعث ہے اور یہ تجربہ طویل المعیاد دیرپا پرامن خلائی سرگرمیوں کیلئے بھی خطرہ ہے، بھارتی تجربہ کے فوجی پہلوؤں کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، بھارتی تجربے سے عالمی وعلاقائی امن، استحکام اور سلامتی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے
ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارتی تجربہ سے بنا ملبہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے اوپر پہنچ چکا ہے اور اس ملبے کا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے تصادم کا خطرہ ہے جب کہ موثر قانون کی عدم موجودگی میں دیگر ریاستیں بھی ایسی صلاحیت حاصل کر سکتی ہیں، پاکستان خلائی ٹیکنالوجیز کا سماجی و اقتصادی ترقی کیلئے استعمال چاہتا ہے اور اس کے لیے ہم خیال ممالک کیساتھ قانونی سقم دور کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔
دوسری جانب بھارتی تجربے کے پانچ روز بعد ناسا کے سربراہ جم برڈنسٹن نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس تجربے کو ’’ہولناک واقعہ‘‘ قرار دیا ہے جس میں میزائل اور سیٹلائٹ کے 400 ٹکڑے وجود میں آئے ہیں جو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن اور اس کے خلانوردوں کے لیے ایک مسلسل خطرہ بن چکے ہیں۔
جم برڈنسٹن نے کہا کہ اس تجربے کے نتیجے میں بننے والے خلائی کوڑے کے تمام ٹکڑوں پر نظر رکھنا ممکن نہیں اور ہم صرف انہی ٹکڑوں کی ٹریکنگ کررہے ہیں جو دس سینٹی میٹر یا اس سے بڑے ہیں اور ہم اس پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ مصنوعی سیارے کو تباہ کرنے کا یہ تجربہ 300 کلومیٹر تک کے نچلے مدار میں کیا گیا تھا لیکن کم ازکم 24 ٹکڑے اپنے مدار سے کھسک کر اوپر چلے گئے ہیں اور اب وہ عین بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے مدار تک پہنچ چکے ہیں۔