نووااسکوچیاشمالی امریکہ میں اعضاء کے عطیہ کیلئے متوقع رضامندی کا حامل پہلا صوبہ
نووااسکوچیاشمالی امریکہ میں اعضاء کے عطیہ کیلئے متوقع رضامندی کا حامل پہلا صوبہ بننے جارہا ہے۔ سنڈی ریان وہ دن کبھی نہیں بھول سکتی جب انکی زندگی عضو کے عطیہ کی بدولت بالکل بدل گئی۔نووا اسکوٹیا کے وزیر اعظم اسٹیفن مک نیل نے قانون سازی پیش کی جس کے تحت یہ صوبہ شمالی امریکہ میں عضو یا ٹشو کے عطیے کیلئے متوقع رضامندی کا حامل پہلا صوبہ ہوگا۔
بل کے باضابطہ اعلان کے بعد لوگ اپنے اعضاء کا عطیہ نہ کرنے کا انتخاب کرسکیں گیااور اسکی پوری ذمہ داری ان پر ہوگی۔ یہ بل 19سال سے کم عمر اور ان لوگوں پر لاگو نہیں ہوگا جو کہ اپنے فیصلے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ریان سال 2013میں اسپتال میں داخل ہوئیں جب انکے جگر پر کسی وائرس نے حملہ کردیا، وہ کوما میں چلی گئیں اور انہیں صرف چار ہفتوں تک زندہ رہنے کی امید دی گئی۔ لیکن پھر انکی قسمت کی دیوی ان پر مہربان ہوئی اور ان کا لیور ٹرانسپلانٹ کیا گیا۔ اور یہ سب اعضاء کے عطیے سے ہی ممکن ہوپایا۔
صوبے کے لیگیسی آف لائف اوراعضاء کے عطیہ کے پروگرام کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر اسٹیفن بیڈ نے اسے صوبے کے لیے بہترین دن قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ متوقع رضامندی کے خیال نے تقریبا 15سال پہلے توجہ حاصل کرنا شروع کی ، انہوں نے کہا کہ بیلجیئم اور اسپین سمیت دیگر ممالک پہلے سے ہی یہ سسٹم استعمال کررہے ہیں۔