بھارت کی جیل میں قتل ہونے والے پاکستانی قیدی نورالامین کی نماز جنازہ ادا کردی گئی
بھارت کی
جیل میں قتل ہونے والے پاکستانی قیدی نورالامین کی نماز جنازہ ادا کردی
گئی ،نورالامین کی نماز جنازہ میں ملک کی سماجی وسیاسی شخصیات سمیت شہریوں
نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
ایک ہفتہ قبل پاکستانی ماہی گیر نورالامین
کو بھارتی جیل میں عملے کی جانب سے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے
نتیجے میں وہ جان کی بازی ہار گئے تھے، گزشتہ روز بھارتی حکام نے ان کی میت
واہگہ بارڈر پر پاکستانی حکام کے حوالے کی تھی۔
چار بچوں کے والد اور گھر کے واحد کفیل نورالامین کو بھارت نے سمندری حدود کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
پاکستانی
ماہی گیر نے 2017 میں ملنے والی اپنی سزا پوری کرلی تھی لیکن اس کے باوجود
بھارتی حکام نے انہیں رہا نہیں کیا اوراب ان کی میت حوالے کردی ہے۔
پاکستان
فشر فورک فورم کے مطابق بھارتی جیلوں میں 150 پاکستانی ماہی گیر قید ہیں
جن میں سے تین ایسے بھی ہیں جو گزشتہ 20 سالوں سے قید و بند کی صعوبتیں
جھیل رہے ہیں،پاکستان فشر فورک فورم کے مطابق بھارتی جیل میں قید امیر حمزہ
نامی ماہی گیر کینسر کا بھی مریض ہے۔
بھارت کی جیل میں اس سے قبل
پلوامہ واقع کے بعد پاکستانی قیدی شاکراللہ کو بھی پتھروں سے مار کر قتل
کیا گیا تھا جس کے بعد اس کی بھی میت پاکستان کے حوالے کی گئی تھی۔
ذرائع
ابلاغ عامہ ے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سماجی رہنما انصار برنی کا کہنا
تھا کہ سرحدوں پر ناکامی کے بعد بھارت نے بے گناہ قیدیوں کو عتاب کا
نشانہ بنانہ شروع کردیا ہے ایک مہینے میں تین لاشیں پاکستان آئی ہیں اگر
بھارت اپنے رویے باز نہ آیا تو بھارت بھی جواب کیلئے تیار رہے بھارت کو
ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔
انصار برنین کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر میں
مظالم کی مذمت کرتے ہیں،خواتین کی عصمت دری ہو رہی ہے بچوں کو نشانہ بنایا
جا رہا حکومت اس معاملے کو بھر پور طریقے سے عالمی سطح پر اجاگر کرے ہم
حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔
پاکستان فشر فوک فورم کے چیئر میں محمد علی شاہ
کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت نے ساڑھے تین سو سے زیادہ بھارتی ماہیم گیروں
کو رہا کرنے کا اعلان کیا ہے وہاں کی حکومت بھی پاکستانی ماہی گیروں کو
رہا کرے۔